السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک دینی ادارے میں معلمات بچوں کو دینی تعلیم دیتی ہے، کیا ان معلمات کو ان کی مشاہیر زکوۃ صدقات وغیرہ کے پیسوں سے دینا جائز ہے یا نہیں ؟یہ کوئی متبادل صورت ممکن ہے ؟
واضح رہے کہ زکوۃ کی ادائیگی کے لیے کسی مستحق زکوۃ کو بغیر کسی عوض کے زکوۃ کی رقم کا مالک بنا نا ضروری ہے اس لیے مدرسے کے معلمات کی تنخواہ زکوۃ کی رقم سے نہیں دی جا سکتی ۔ البتہ اگر زکوۃ کی رقم کسی مستحق زکوۃ کو مالک بنا کردی جائے پھر وہ اپنی خوشی سے بغیر کسی دباؤ کے یہ رقم مدرسے میں جمع کرا دے ،تو یہ رقم بطور تنخواہ ادا کی جا سکتی ہے ، نیزجو حکم زکوۃ کا ہے وہی حکم صدقات واجبہ (صدقہ فطر عشر فدیہ اور نظر )کا ہے البتہ نفلی صدقات کی رقم سے تنخواہ ادا کرنے کا حکم یہ ہے کہ اگر نفلی صدقہ کی رقم مدرسے کے عام اخراجات میں استعمال کرنے کے لیے دی گئی ہے تو اس رقم سے معلمات کی تنخواہ ادا کی جا سکتی ہے۔
الدرالمختار: (2/ 344، ط: دارالفكر) ويشترط أن يكون الصرف (تمليكا) لا إباحة كما مر (لا) يصرف (إلى بناء) نحو (مسجد و) لا إلى (كفن ميت وقضاء دينه). الشامية : (2/ 339، ط: دارالفكر) (قوله: أي مصرف الزكاة والعشر) يشير إلى وجه مناسبته هنا، والمراد بالعشر ما ينسب إليه كما مر فيشمل العشر ونصفه المأخوذين من أرض المسلم وربعه المأخوذ منه إذا مر على العاشر أفاده ح. وهو مصرف أيضا لصدقة الفطر والكفارة والنذر وغير ذلك من الصدقات الواجبة كما في القهستاني. الهندية: (1/ 170، ط: دارالفكر) أما تفسيرها فهي تمليك المال من فقير مسلم غير هاشمي، ولا مولاه بشرط قطع المنفعة عن المملك من كل وجه لله - تعالى - هذا في الشرع كذا في التبيين.