مصارف زکوۃ و صدقات

زکوۃ کے مستحق کو تحفہ بول کر زکوۃ دینا

فتوی نمبر :
1242
عبادات / زکوۃ و صدقات / مصارف زکوۃ و صدقات

زکوۃ کے مستحق کو تحفہ بول کر زکوۃ دینا

اگر کوئی شخص زکوۃ کا مستحق ہو، لیکن زکوۃ لینے سے انکار کرے، تو کیا میں اسے یہ کہہ کر رقم دے سکتا ہوں کہ یہ میری طرف سے تحفہ ہے، اور دل میں زکوۃ کی نیت رکھوں؟ کیا اس صورت میں میری زکوۃ ادا ہو جائے گی؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

مستحقِ زکوۃ کو زکوۃ کی رقم تحفہ کہہ کر دینے سے زکوۃ ادا ہو جائے گی،بشرطیکہ زکوۃ ادا کرنے والےنے دل میں زکوٰۃ دینے کی نیت کی ہو۔

حوالہ جات

*البحر الرائق:(2/ 228)*
من أعطى مسكينا دراهم وسماها هبة أو ‌قرضا ‌ونوى ‌الزكاة فإنها تجزئه.

*الهندية:(1/ ،ط:دارالفکر171)*
ومن أعطى مسكينا دراهم وسماها هبة أو ‌قرضا ‌ونوى ‌الزكاة فإنها تجزيه، وهو الأصح هكذا في البحر الرائق.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
76
فتوی نمبر 1242کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --