مفتی صاحب! کن چیزوں کو ادھار پر خریدنا جائز نہیں ہے کیا سونے کو ادھار خریدا جا سکتا ہے؟
واضح رہے کہ سونا اور چاندی کی باہمی خرید و فروخت میں شریعت نے خاص شرائط مقرر کی ہیں۔ ان میں سے ایک اہم شرط یہ ہے کہ معاملہ ادھار نہ ہو، بلکہ عقد کی مجلس ہی میں دونوں عوضوں پر قبضہ ہونا ضروری ہے۔ مزید یہ کہ اگر سونا سونے کے بدلے یا چاندی چاندی کے بدلے فروخت کی جائے تو مجلسِ عقد میں قبضہ کے ساتھ دونوں جانب وزن کی برابری بھی لازم ہے، ورنہ معاملہ سود میں داخل ہوگا، لیکن اگر سونا چاندی کے بدلے یا چاندی سونے کے بدلے فروخت کی جائے تو مجلسِ عقد میں دونوں عوضوں پر قبضہ کرنا تو ضروری ہے، تاہم وزن میں برابری شرط نہیں، بلکہ کمی بیشی جائز ہے، البتہ اگر سونے کو کسی کرنسی کے ذریعے ادھار پر خریدا جائے تو یہ جائز ہے، بشرطیکہ سونے پر مجلس عقد میں قبضہ کیا جائے اور اگر سونا بھی ادھار ہو تو یہ صورت جائز نہیں۔
*صحيح مسلم: (رقم الحديث:81 - (1587)،ط:دار طوق النجاۃ)* عن عبادة بن الصامت قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: « الذهب بالذهب، والفضة بالفضة، والبر بالبر، والشعير بالشعير، والتمر بالتمر، والملح بالملح، مثلا بمثل، سواء بسواء، يدا بيد، فإذا اختلفت هذه الأصناف، فبيعوا كيف شئتم، إذا كان يدا بيد . *الهداية: (3/ 81،ط:دار احیاء التراث العربی)* قال: "فإن باع فضة بفضة أو ذهبا بذهب لا يجوز إلا مثلا بمثل وإن اختلفا في الجودة والصياغة" لقوله عليه الصلاة والسلام: "الذهب بالذهب مثلا بمثل وزنا بوزن يدا بيد والفضل ربا" الحديث. وقال عليه الصلاة والسلام: "جيدها ورديئها سواء" وقد ذكرناه في البيوع. قال: "ولا بد من قبض العوضين قبل الافتراق" لما روينا، ولقول عمر رضي الله عنه: وإن استنظرك أن يدخل بيته فلا تنظره، ولأنه لا بد من قبض أحدهما ليخرج العقد عن الكالئ بالكالئ ثم لا بد من قبض الآخر تحقيقا للمساواة فلا يتحقق الربا.