مصارف زکوۃ و صدقات

زکوٰۃ راشن کی صورت میں تقسیم کرنا

فتوی نمبر :
738
عبادات / زکوۃ و صدقات / مصارف زکوۃ و صدقات

زکوٰۃ راشن کی صورت میں تقسیم کرنا

السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ!
کیا زکوۃ کے پیسوں سے ضرورت کا سامان خرید کر دیا جا سکتا ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ اسلام میں زکوٰۃ کا مقصد محتاج کی مدد کرنا ہے، جس طرح زکوٰۃ کی رقم کسی کو دے کر اس کو مالک بنانا جائز ہے، اسی طرح زکوٰۃ کے مال سے راشن یا دیگر ضروری سامان خرید کر مستحق کو دینا بھی جائز ہے، شرط یہ ہے کہ دینے والا سامان کی ملکیت مستحق کو منتقل کرے، لیکن قیمت دینا افضل ہے، تاکہ وہ اپنی ضرورت کے مطابق اس کو استعمال کرسکے۔

حوالہ جات

*تبيين الحقائق:(251/1،ط:دار الكتاب الإسلامي)*
وقوله هي تمليك المال أي الزكاة تمليك المال وترد عليه الكفارة إذا ملكت؛ لأن التمليك بالوصف المذكور موجود فيها، ولو قال تمليك المال على وجه لا بد له منه لانفصل عنها؛ لأن الزكاة يجب فيها تمليك المال؛ لأن الإيتاء في قوله تعالى ﴿وآتوا الزكاة﴾ [البقرة: ٤٣] يقتضي التمليك، ولا تتأدى بالإباحة حتى لو كفل يتيما فأنفق عليه ناويا للزكاة لا يجزيه بخلاف الكفارة، ولو كساه تجزيه لوجود التمليك.

*الهندية:(192/1،ط: دارالفكر)*
وذكر في الفتاوى أن أداء القيمة أفضل من عين المنصوص عليه وعليه الفتوى كذا في الجوهرة النيرة.

*وأيضاً:(170/1،ط: دارالفكر)*
أما تفسيرها فهي تمليك المال من فقير مسلم غير هاشمي، ولا مولاه بشرط قطع المنفعة عن المملك من كل وجه لله تعالى.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
58
فتوی نمبر 738کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --