مصارف زکوۃ و صدقات

غیر مستحق کو زکوۃ دینے کا حکم

فتوی نمبر :
429
عبادات / زکوۃ و صدقات / مصارف زکوۃ و صدقات

غیر مستحق کو زکوۃ دینے کا حکم

ایک بھائی نے ایک شخص کے ظاہر حال کو دیکھ کر اس کو زکوۃ دی، بعد میں پتہ چلا کہ وہ زکوۃ کا مستحق نہیں تھا، اب اس صورت میں زکوۃ ادا ہوگئی؟ یا دوبارہ زکوۃ ادا کی جائےگی؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

پوچھی گئی صورت میں اگر اس شخص نے زکوٰۃ دیتے وقت پوری کوشش کر کے یا غالب گمان سے سمجھا کہ لینے والا واقعی مستحق ہے تو زکوٰۃ ادا ہو گئی، چاہے بعد میں معلوم ہو کہ وہ اہل نہیں تھا، البتہ اگر تحقیق کیے بغیر یا لاپرواہی سے کسی کو دے دی اور بعد میں پتا چلا کہ وہ مستحق نہ تھا تو زکوٰۃ ادا نہیں ہوئی، زکوٰۃ دوبارہ دینی ہوگی۔

حوالہ جات

*الدرالمختار(2/ 352،ط:دارالفکر)*
(دفع بتحر) لمن يظنه مصرفا (فبان أنه عبده أو مكاتبه أو حربي ولو مستأمنا أعادها)لما مر (وإن بان غناه أو كونه ذميا أو أنه أبوه أو ابنه أو امرأته أو هاشمي لا) يعيد لأنه أتى بما في وسعه، حتى لو دفع بلا تحر لم يجز إن أخطأ.

*شرح الوقاية:(2/ 227،ط:دار الوراق)*
دفع إلى من ظن أنه مصرف، فبان أنه عبده، أو مكاتبه يعيدها، وإن بان غناه، أو كفره، أو أنه أبوه، أو ابنه، أو هاشمي لم يعد.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
101
فتوی نمبر 429کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --