مصارف زکوۃ و صدقات

بلا تمیک زکوۃ سے مدرسے کا قرض ادا کرنا

فتوی نمبر :
424
عبادات / زکوۃ و صدقات / مصارف زکوۃ و صدقات

بلا تمیک زکوۃ سے مدرسے کا قرض ادا کرنا

مدرسہ مقروض ہو تو کیا بلا تملیک ادائیگی قرض کرسکتے ہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ زکوٰۃ میں تملیک (مالک بنانا) ضروری ہے، بغیر تملیک کے زکوۃ کے مال سے کسی کا قرض ادا کرنے سے زکوٰۃ ادا نہیں ہوگی، لہذا پوچھی گئی صورت میں مدرسے کے مہتمم کا بغیر تملیک کے مدرسے کا قرضہ زکوۃ کے پیسوں سے ادا کرنا جائز نہیں ۔

حوالہ جات

*الدر المختار:(137/1،ط: دارالفكر)*
ويشترط أن يكون الصرف (تمليكا) لا إباحة كما مر (لا) يصرف (إلى بناء) نحو (مسجد و) لا إلى (كفن ميت وقضاء دينه) أما دين الحي الفقير فيجوز لو بأمره.

*الشامية:(344/2،ط: دارالفكر)*
ويشترط أن يكون الصرف (تمليكا) لا إباحة كما مر (لا) يصرف (إلى بناء) نحو (مسجد و) لا إلى (كفن ميت وقضاء دينه) أما دين.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
88
فتوی نمبر 424کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --