مصارف زکوۃ و صدقات

گزشتہ سالوں کی زکوٰۃ کاحکم اور طریقہ

فتوی نمبر :
358
عبادات / زکوۃ و صدقات / مصارف زکوۃ و صدقات

گزشتہ سالوں کی زکوٰۃ کاحکم اور طریقہ

ایک خاتون ہے ان کا مسئلہ یہ ہے کہ ان کو یہ معلوم نہیں تھا کہ سونے کے اوپر بھی زکوۃ ہوتی ہے اور کو صرف یہ کہہ کے اوپر ہی زکوۃ دیتی رہی ہیں تو اپ لوگ ان کو معلوم ہوا ہے تو 10 سے 15 سالوں کی زکوۃ ان کی بنتی ہے جو انہوں نے ادا کرنی ہے سونے کے اوپر اب انہوں نے یہ معلوم کرنا ہے کہ وہ فی تولہ 24 کیرٹ کے حساب سے زکوۃ نکالیں گی یا 22کیرٹ کے حساب سے زکوۃ نکالیں گی یا پھر بیچے ہوئے سونے کی قیمت کے حساب سے جو کہ 60 یا 65 پرسنٹ آپ کو سنا رہا ادا کرتا ہے اس معاملے میں ان کی رہنمائی فرما دیجیے اور ان کی رہنمائی اس بارے میں بھی فرما دیجیے کہ وہ زکوۃ نکالنے کے بعد ایسا کون سا مستند ادارہ ہے یا جگہ ہیں جہاں وہ اپنی زکوۃ ادا کریں ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ اگر کسی عورت کو پہلے علم نہ ہو کہ سونے پر زکوٰۃ فرض ہے اور وہ صرف نقدی سے زکوۃ ادا کرتی رہی، بعد میں معلوم ہوا کہ سونے پر بھی زکوۃ فرض ہے تو پچھلے تمام سالوں کی زکوٰۃ ادا کرنا اس پر لازم ہےاور یہ زکوٰۃ سونے کی قیمت کے حساب سے ہوگی۔
جس کا طریقہ یہ ہے کہ پہلے اس سونے کی موجودہ مارکیٹ قیمت معلوم کی جائے، پھر اس قیمت کا ڈھائی فیصد (یعنی چالیسواں حصہ) نکال کر ایک سال کی زکوٰۃ ادا کی جائے،اگلے سال کی زکوٰۃ نکالتے وقت پچھلے سال کی زکوٰۃ منہا کر کے باقی قیمت کا ڈھائی فیصد نکالا جائے، اسی طرح ہر سال کا حساب کیا جائے گا۔
اور زکوٰۃ موجودہ سونے کی قیمت پر آتی ہے، لہذا آپ کے پاس چونکہ 22 کیرٹ سونا ہے اس لیے آپ کی زکوٰۃ 22 کیرٹ سونے کی قیمت پر آئے گی، نہ 24کیرٹ سونے کے حساب سے ہوگی اور نہ ہی سنار کی قیمت خرید کے حساب سے۔
مصرف: زکوٰۃ صرف مستحقین (غریب، یتیم، بیوہ، مقروض) کو دی جا سکتی ہے، البتہ معتبر مدارس یا براہِ راست مستحق کو دینا افضل ہے۔

حوالہ جات

الشامية:(258/2،ط: دارالفكر)*
(وسببه) أي سبب افتراضها (ملك نصاب حولي) نسبة للحول لحولانه عليه (تام) بالرفع صفة ملك، خرج مال المكاتب.

*بدائع الصنائع:(21/2،ط: دار الكتب العلمية)*
وإنما له ولاية النقل إلى القيمة يوم الأداء فيعتبر قيمتها يوم الأداء، والصحيح أن هذا مذهب جميع أصحابنا؛ لأن المذهب عندهم أنه إذا هلك النصاب بعد الحول تسقط الزكاة سواء كان من السوائم أو من أموال التجارة.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
97
فتوی نمبر 358کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --