کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ ہم نے اپنا مکان فروخت کر دیا ہے اور اس مکان کی پانچ لاکھ روپے رقم وصول کرلی ہے، جبکہ باقی رقم دو ماہ بعد ادا کی جائے گی۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے خریدار سے اس مکان میں مزید دو ماہ رہنے کی اجازت لی ہے، تاکہ اس دوران ہم اس مکان میں رہ سکیں، یہاں تک کہ وہ باقی رقم بھی ادا کردے اور ہمارا نیا گھر بھی تیار ہوجائے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا اس مکان میں ہمارے لیے ان دو ماہ تک رہنا جائز ہے یا نہیں؟ ایک صاحب کہتے ہیں کہ اب ہمارے لیے اس مکان میں رہنا درست نہیں ہے، جبکہ خریدار نے اپنی خوشی سے ہمیں دو ماہ تک رہنے کی اجازت دی ہے۔
واضح رہے کہ ہر ایسا عقد جس میں ایسی شرط لگائی جائے جو عقد کے مقتضی کے خلاف ہو، تو ایسی شرط کی وجہ سے عقد فاسد ہوجاتا ہے، لہٰذا اگر مکان فروخت کرتے وقت فروخت کنندہ نے یہ شرط لگائی تھی کہ وہ فروخت کے بعد بھی اسی مکان میں رہے گا، تو یہ شرط عقد کے مقتضی کے خلاف ہونے کی وجہ سے عقد کو فاسد کر دے گی، اس لیے مذکورہ عقد کو ختم کرکے اس شرط کے بغیر دوبارہ عقدِ بیع کیا جائے،البتہ اگر عقدِ بیع کے وقت ایسی کوئی شرط نہیں لگائی گئی تھی، بلکہ خرید و فروخت مکمل ہونے کے بعد مشتری نے اپنی رضامندی سے فروخت کنندہ کو مکان میں رہنے کی اجازت دے دی تھی تو اس صورت میں فروخت کنندہ کا مشتری کی اجازت سے مکان میں رہائش اختیار کرنا جائز ہے، اس میں کوئی حرج نہیں۔
الهداية: (3/ 48،ط: دار احياء التراث العربي) وكل شرط لا يقتضيه العقد وفيه منفعة لأحد المتعاقدين أو للمعقود عليه وهو من أهل الاستحقاق يفسده كشرط أن لا يبيع المشتري العبد المبيع؛ لأن فيه زيادة عارية عن العوض فيؤدي إلى الربا، أو؛ لأنه يقع بسببه المنازعة فيعرى العقد عن مقصوده إلا أن يكون«متعارفا؛ لأن العرف قاض على القياس، بدائع الصنائع: (5/ 270،ط:دارالفکر) ولو كان المبيع دارا، فسكنها المشتري، أو أسكنها غيره بأجر أو بغير أجر، أو رم شيئا منها، أو جصصها، أو طينها، أو أحدث فيها شيئا، أو هدم فيها شيئا، فذلك كله إجازة؛ لأنه دليل اختيار الملك أو تقريره، فكان إجازة دلالة، وذكر القاضي في شرحه مختصر الطحاوي في سكنى المشتري روايتان، ووفق بينهما، فحمل إحداهما على ابتداء السكنى، والأخرى على الدوام عليه، ولو كان فيها ساكن بأجر، فباعها البائع برضا المستأجر، وشرط الخيار للمشتري، فتركه المشتري فيها أو استأوى الغلة، فهو إجازة؛ لأن الأجرة بدل المنفعة، فكان أخذها دلالة قصد تملك المنفعة أو تقرير ملك المنفعة، وذلك قصد تملك الدار أو تقرر ملكه فيها، فكان إجازة.