السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! میری اہلیہ کا آپریشن ہونا ہے۔ آپریشن کا خرچ تقریباً ڈیڑھ لاکھ روپے ہے اور ممکن ہے علاج کے دوران مزید اخراجات بھی ہوں، میرے پاس اس وقت علاج کے لیے مکمل رقم موجود نہیں اور میں پہلے ہی کافی قرض دار ہوں۔ میری اہلیہ کے پاس تقریباً ڈھائی سے تین لاکھ روپے مالیت کا سونا موجود ہے، لیکن ہم اسے فروخت نہیں کرنا چاہتے۔ میرا سوال یہ ہے کہ کیا ہماری اس صورتِ حال میں ہم ہسپتال سے اہلیہ کا آپریشن اور علاج زکوٰۃ یا صدقات کی رقم سے کروا سکتے ہیں؟ اگر ہسپتال زکوٰۃ فنڈ سے مستحق مریضوں کے علاج کی سہولت فراہم کرتا ہو تو کیا ہم اس سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں؟ براہِ کرم ہماری مکمل صورتِ حال دیکھتے ہوئے شریعت کی روشنی میں فتویٰ عطا فرمائیں کہ ہمارے لیے زکوٰۃ یا صدقات کی رقم سے علاج کروانا جائز ہے یا نہیں۔ جزاکم اللہ خیراً
زکوٰۃ کی ادائیگی کے لیے ضروری ہے کہ کسی مستحق زکوٰۃ فرد کو زکوٰۃ کی رقم یا چیز کا مالک بنادیا جائے، جب تک تملیک نہ ہو زکوٰۃ ادا نہیں ہوتی، ہر مریض کو اس کے علاج کی نوعیت کے اعتبار سے کچھ رقم زکوٰۃ کی مد میں سے دے کر ان سے ہسپتال کے اخراجات کی مد میں وصول کرلیا جائے تو یہ رقم ان کے حوالے کرنے سے زکوٰۃ ادا ہو جائے گی۔ پوچھی گئی صورت میں اگر آپ مستحق زکوۃ ہیں تو آپ اپنی بیوی کا علاج زکوۃ کے فنڈ سے کرواسکتے ہیں،لیکن شرط یہ ہے کہ آپ یا آپ کا کوئی وکیل پہلے زکوۃ کے پیسوں پر قبضہ کرے،بغیر قبضہ کیے زکوۃ کے فنڈ سے علاج کروانے سے زکوۃ ادا نہیں ہوگی۔
الهندية: (1/ 189،ط:دارالفكر) لا يجوز دفع الزكاة إلى من يملك نصابا أي مال كان دنانير أو دراهم أو سوائم أو عروضا للتجارة أو لغير التجارة فاضلا عن حاجته في جميع السنة هكذا في الزاهدي والشرط أن يكون فاضلا عن حاجته الأصلية، وهي مسكنه، وأثاث مسكنه وثيابه وخادمه، ومركبه وسلاحه، ولا يشترط النماء إذ هو شرط وجوب الزكاة لا الحرمان كذا في الكافي. ويجوز دفعها إلى من يملك أقل من النصاب، وإن كان صحيحا مكتسبا كذا في الزاهدي... ولا يجوز دفعها إلى ولد الغني الصغير كذا في التبيين. ولو كان كبيرا فقيرا جاز، ويدفع إلى امرأة غني إذا كانت فقيرة، وكذا إلى البنت الكبيرة إذا كان أبوها غنيا؛ لأن قدر النفقة لا يغنيها وبغنى الأب والزوج لا تعد غنية كذا في الكافي... ولا يدفع إلى بني هاشم، وهم آل علي وآل عباس وآل جعفر وآل عقيل وآل الحارث بن عبد المطلب كذا في الهداية ويجوز الدفع إلى من عداهم من بني هاشم كذرية أبي لهب؛ لأنهم لم يناصروا النبي صلى الله عليه وسلم كذا في السراج الوهاج. هذا في الواجبات كالزكاة والنذر والعشر والكفارة فأما التطوع فيجوز الصرف إليهم كذا في الكافي. تبيين الحقائق:(251/1،ط:دار الكتاب الإسلامي) وقوله هي تمليك المال أي الزكاة تمليك المال وترد عليه الكفارة إذا ملكت؛ لأن التمليك بالوصف المذكور موجود فيها، ولو قال تمليك المال على وجه لا بد له منه لانفصل عنها؛ لأن الزكاة يجب فيها تمليك المال؛ لأن الإيتاء في قوله تعالى ﴿وآتوا الزكاة﴾ [البقرة: ٤٣] يقتضي التمليك، ولا تتأدى بالإباحة حتى لو كفل يتيما فأنفق عليه ناويا للزكاة لا يجزيه بخلاف الكفارة، ولو كساه تجزيه لوجود التمليك.