السلام علیکم! ایک شخص کے دوسرے کے ذمہ چار لاکھ، تیس ہزار، روپے ہیں، لیکن وہ کہتا ہے کہ نہیں، ایک لاکھ ہیں تو کیا ایسی صورت میں مدعی علیہ پر قسم آتی ہے یا نہیں؟ اسی طرح مدعی پر؟ اور اگر مدعی علیہ قسم اٹھا لے تو کیا مدعی کیلئے ایک لاکھ لینا درست ہوگا جبکہ اس میں اندیشہ یہ ہے کہ اس سے مدعی علیہ کے بیانیے کو تقویت ملے گی تو اس کی کیا صورت ہوگی؟ رہنمائی فرمائیں.. جزاک اللّٰہ خیرا
شریعت میں دعویٰ کرنے والے پر گواہ پیش کرنا لازم ہے، جبکہ انکار کرنے والے پر قسم ہے، لہٰذا پوچھی گئی صورت میں اگر کسی شخص کا دعویٰ ہو کہ میرے فلاں شخص کے ذمہ ایک لاکھ تیس ہزار روپے ہیں تو یہ مدعی ہے، اسے اپنے دعوی پر گواہ پیش کرنا ہوگا، اگر گواہ پیش کردے تو اس کے حق میں فیصلہ ہوگا، ورنہ منکر سے قسم لی جائے گی،کہ اس کے ذمہ ایک لاکھ ہے،اگر وہ قسم کھا لیتا ہے تو اس پر ایک لاکھ لازم ہوں گے اور مدعی ایک لاکھ ہی لے گا۔
صحيح مسلم:(128/5،رقم الحديث:1711،ط:دار طوق النجاة) حدثني أبو الطاهر أحمد بن عمرو بن سرح ، أخبرنا ابن وهب ،عن ابن جريج ، عن ابن أبي مليكة ،عن ابن عباس أن النبي ﷺ قال: «لو يعطى الناس بدعواهم لادعى ناس دماء رجال وأموالهم، ولكن اليمين على المدعى عليه ». تكملة حاشية ابن عابدين: (8/ 40،ط:دارالفکر) وكذا لو نكل مرة لان اليمين واجبة عليه لقوله عليه الصلاة والسلام البينة على المدعي واليمين على من أنكر ترك هذا الواجب بالنكول دليل على أنه باذل ومقر، وإلا قدم على اليمين تفصيا عن عهدة الواجب ودفعا للضرر عن نفسه ببذل المدعي أو الاقرار به.