مخاصمات

قرآن کریم کی قسم اٹھانے کا حکم

فتوی نمبر :
1547
معاملات / مخاصمات / مخاصمات

قرآن کریم کی قسم اٹھانے کا حکم

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک آدمی نے قرآن مجید ہاتھ میں اٹھا کر اس کی قسم کھائی ہے اس کا کیا حکم ہے ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ قرآن کریم کی قسم کھانے سے قسم منعقد ہوجاتی ہے ، لہذا پوچھی گئی صورت میں اس آدمی کی قسم منعقد ہوگئی ہے، اب اگر یہ شخص ا س کام کو پورا نہیں کرتا تو قسم توڑنے کی وجہ سے اس پر قسم کا کفارہ لازم آئے گا ۔

حوالہ جات

الدرالمختار: (3/ 712، ط: دارالفكر)
(لا) يقسم (بغير الله تعالى ‌كالنبي ‌والقرآن والكعبة) قال الكمال: ولا يخفى أن الحلف بالقرآن الآن متعارف فيكون يمينا.

مجمع الأنهر : (1/ 544، ط: دار إحياء التراث العربي )
وفي الفتح ولا يخفى أن ‌الحلف ‌بالمصحف الآن متعارف فيكون يمينا وتمامه فيه فليراجع.وقال العيني لو حلف بالمصحف أو وضع يده عليه أو قال وحق هذا فهو يمين ولا سيما في هذا الزمان الذي كثر فيه الحلف به .

الهندية: (2/ 53، ط: دارالفكر)
قال: محمد - رحمه الله تعالى - في الأصل لو قال: ‌والقرآن ‌لا ‌يكون يمينا ذكره مطلقا، والمعنى فيه، وهو أن الحلف به ليس بمتعارف فصار كقوله: وعلم الله، وقد قيل هذا في زمانهم أما في زماننا فيكون يمينا، وبه نأخذ، ونأمر، ونعتقد، ونعتمد، وقال: محمد بن مقاتل الرازي لو حلف بالقرآن قال: يكون يمينا، وبه أخذ جمهور مشايخنا رحمهم الله تعالى كذا في المضمرات.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
45
فتوی نمبر 1547کی تصدیق کریں