کیا فرماتےہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص نے اپنا ایک گھر اپنے ایک کو دوست کو اس طور پر ہبہ کردیا کہ آپ تاحیات اس میں رہیں اور آپ کی وفات کے بعد میں یہ گھر واپس لے لوں گا ، اتفاق سے سے ہبہ کرنے والا پہلے فوت ہوگیا اور اس کے بعد اس کا وہ دوست فوت ہوا ،جسے مکان بطور ہبہ دیا تھا ۔ اب پوچھنا یہ ہے کہ یہ گھر اصل مالک (جس نے ہبہ کیا تھا ) کے ورثاکو ملے گا یا اس دوست کے ورثاکو جس کو ہبہ کیا گیا تھا ۔
واضح رہے کہ سوال میں مذکو رہ صورت کو فقہ کے اصطلاح میں ہبہ عمری کہا جاتا ہے اور اس کا حکم یہ ہے کہ موھوب لہ (جس کو ہبہ کیا گیا ہے ) وہ اس چیزکا مالک بن جاتا ہے ،نیز اصل مالک کا یہ شرط لگانا کہ آپ کے وفات کے بعد میں واپس لے لوں گا ، اس کا کوئی اعتبار نہیں ، لہذا مذکورہ مکان موھوب لہ (جس کو ہبہ کیا گیا ہے ) کے ورثا کو ملے گا ۔
صحيح مسلم: (5/ 68، رقم الحديث : 26 - (1625)، ط: دار طوق النجاة ) عن جابر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: « أمسكوا عليكم أموالكم ولا تفسدوها، فإنه من أعمر عمرى فهي للذي أعمرها حيا وميتا ولعقبه . الدرالمختار : (5/ 707، ط: دارالفكر) (جاز العمرى) للمعمر له ولورثته بعده لبطلان الشرط. الهداية: (3/ 228، ط: دار احياء التراث العربي ) قال: "والعمرى جائزة للمعمر له حال حياته ولورثته من بعده" لما روينا. ومعناه أن يجعل داره له عمره. وإذا مات ترد عليه فيصح التمليك، ويبطل الشرط لما روينا وقد بينا أن الهبة لا تبطل بالشروط الفاسدة " .