مخاصمات

انکار کی صورت میں قاضی کا قسم لینے کا حکم

فتوی نمبر :
1813
معاملات / مخاصمات / مخاصمات

انکار کی صورت میں قاضی کا قسم لینے کا حکم

محترم مفتی صاحب!
میرا سوال یہ ہے کہ اگر کوئی شخص لواطت (بدفعلی) کرنے کے بعد اس سے انکار کرے تو کیا قاضی اس سے قسم لے سکتا ہے یا نہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ اگر کوئی شخص کسی پر لواطت (بدفعلی) کا الزام لگائے تو اس پر اس الزام کو ثابت کرنے کے لیے قاضی کے سامنے گواہوں کا پیش کرنا لازم ہے ، اگر وہ گواہ پیش نہ کرسکا تو پھر قاضی ملزم (لواطت کرنے والا) سے انکار کی صورت میں قسم لے سکتا ہے۔

حوالہ جات

*تكملة حاشية ابن عابدين: (8/ 40،ط:دارالفکر)*
وكذا لو نكل مرة لان اليمين واجبة عليه لقوله عليه الصلاة والسلام ‌البينة ‌على ‌المدعي واليمين على من أنكر ترك هذا الواجب بالنكول دليل على أنه باذل ومقر، وإلا قدم على اليمين تفصيا عن عهدة الواجب ودفعا للضرر عن نفسه ببذل المدعي أو الاقرار به..

*الهندية: (2/ 143،ط:دارالفکر)*
ويثبت الزنا عند الحاكم ظاهرا ‌بشهادة ‌أربعة ‌يشهدون ‌عليه ‌بلفظ ‌الزنا لا بلفظ الوطء والجماع كذا في التبيين..

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
31
فتوی نمبر 1813کی تصدیق کریں