مفتی صاحب ربیع الاول کے بارے میں رہنمائی فرمائے کہ اس کو کس طرح منانا چاہیے اور اس حوالے سے کیا خاص اعمال و پیغام ہے جو ایک مسلمان کو کرنا چاہیے؟
واضح رہے کہ ماہِ ربیع الاول کو ایک خاص حیثیت کے اعتبار سے دوسرے مہینوں پر فضیلت حاصل ہے، کیونکہ اس بابرکت مہینے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادتِ باسعادت ہوئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیر کے دن روزہ رکھنے کی فضیلت بیان کرتے ہوئے اس کی ایک وجہ یہ بھی بیان فرمائی کہ یہ وہ دن ہے جس میں میری ولادت ہوئی، باقی ربیع الاول کے مہینے میں کسی خاص عمل کا روایات میں کوئی تذکرہ موجود نہیں۔ ربیع الاول کا مہینہ ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ مسلمانوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت جس مقصد کے لیے ہوئی تھی، اسے سیکھنا، سمجھنا اور اپنی زندگی میں نافذ کرنا چاہیے۔ جو مسلمان اپنی زندگی کے ہر کام اور ہر عمل میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی اتباع کرتا ہے، اس کے لیے ہر مہینہ ربیع الاول اور ہر دن 12 ربیع الاول کی حیثیت رکھتا ہے۔ ماہِ ربیع الاول کا مقصد صرف یہ نہیں کہ ہم اس مہینے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت اور عشق کا دعویٰ کریں، گھروں پر چراغاں کریں، حلوے اور دیگر اشیاء تقسیم کریں یا جلوس نکالیں؛ بلکہ اس مہینے کا حقیقی پیغام یہ ہے کہ ایک مسلمان اپنی پوری زندگی میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی مکمل اتباع کرے۔ خوشی کا موقع ہو یا غمی کا، ہر حال میں اپنے معاملات اور اعمال کو سنتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق بنانے کی کوشش کرے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ انسان اہلِ علم سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں، آپ کے طریقۂ زندگی اور دین کے احکام کے بارے میں دریافت کرتا رہے اور اپنی زندگی کو سنت کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرے۔ جس مسلمان کی زندگی کا مقصد ہی یہ ہو کہ اس کا ہر عمل، ہر قدم اور اس کی ہر سانس سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے مطابق ہو، اس کے لیے ہر دن ربیع الاول اور ہر دن 12 ربیع الاول کی مانند ہے۔ لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ربیع الاول کے پیغام کو صرف ایک مہینے یا ایک دن تک محدود نہ کریں، بلکہ پوری زندگی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو اپنانے کی کوشش کریں؛ کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کا مقصد یہی ہے کہ امت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نقشِ قدم پر چلے، آپ کی تعلیمات کو اپنی زندگی میں نافذ کرے، اور یہی اتباعِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم دنیا میں کامیابی اور آخرت میں جنت کا راستہ ہے۔
المعجم الكبير للطبراني:(11/ 85،ط:مكتبة ابن تيمية ) 11124 - حدثنا محمد بن زكريا الغلابي، أنا عبد الله بن رجاء، أنا إسرائيل، عن مسلم الأعور، عن مجاهد، عن ابن عباس، قال: «ولد رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم الاثنين، وأنزل عليه يوم الاثنين، ومات يوم الاثنين. المدخل لابن الحاج: (2/ 2،ط:دار التراث): لكن أشار عليه الصلاة والسلام -إلى فضيلة هذا الشهر العظيم «بقوله عليه الصلاة والسلام للسائل الذي سأله عن صوم يوم الاثنين فقال له عليه الصلاة والسلام ذلك يوم ولدت فيه» فتشريف هذا اليوم متضمن لتشريف هذا الشهر الذي ولد فيه. فينبغي أن نحترمه حق الاحترام ونفضله بما فضل الله به الأشهر الفاضلة