مسبوق کا سجدہ سہو میں امام کے ساتھ سلام پھیرنا

فتوی نمبر :
484
عبادات / نماز /

مسبوق کا سجدہ سہو میں امام کے ساتھ سلام پھیرنا

السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ!
مفتی صاحب! اگر مسبوق نماز میں امام کے ساتھ سجدہ سہو میں سلام پھیرے تو اس کی نماز ہو جائے گی؟ یا نہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ اگر امام پر سجدہ سہو واجب ہو تو مسبوق پر بھی امام کی اتباع کرتے ہوئے سجدہ سہو کرنا لازم ہے، چاہے امام سے سہو مسبوق کے شامل ہونے سے پہلے ہوا ہو یا اس کی موجودگی میں، البتہ مسبوق امام کے ساتھ سلام نہیں پھیرے گا، بلکہ امام کے سلام کے بعد اپنی باقی نماز مکمل کرے گا۔
اگر اس نے جان بوجھ کر امام کے ساتھ سلام پھیر لیا تو اس کی نماز فاسد ہو جائے گی، لیکن اگر وہ لاعلمی میں یا بھول کر امام کے ساتھ سلام پھیرے تو اس کی نماز فاسد نہیں ہو گی، بلکہ سلام کے بعد اپنی چھوٹی ہوئی رکعتیں مکمل کرے گا۔

حوالہ جات

*الشامية:(82/2،ط: دارالفكر)*
(والمسبوق يسجد مع إمامه مطلقا)
(قوله والمسبوق يسجد مع إمامه) قيد بالسجود لأنه لا يتابعه في السلام، بل يسجد معه ويتشهد فإذا سلم الإمام قام إلى القضاء، فإن سلم فإن كان عامدا فسدت وإلا لا، ولا سجود عليه إن سلم سهوا قبل الإمام أو معه؛ وإن سلم بعده لزمه لكونهسواء كان السهو قبل الاقتداء أو بعده (ثم يقضي ما فاته) ولو سها فيه سجد ثانيا (وكذا اللاحق) لكنه يسجد في آخر صلاته، ولو سجد مع إمامه أعاده، والمقيم خلف المسافر كالمسبوق، وقيل كاللاحق.

*الهندية:(128/1،ط: دارالفكر)*
ولا يشترط بعدما سجد سجدة السهو يتابعه في الثانية ولا يقتضي الأول وإن دخل معه بعدما سجدهما لا يقضيهما، كذا في التبيين.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
68
فتوی نمبر 484کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --