موضوع: مشترکہ و قدیم قبرستان میں بعض لوگوں کا دوسرے علاقوں کے مسلمانوں کی تدفین سے منع کرنا محترم مفتیانِ کرام دارالافتاء! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ بعد از سلام عرض ہے کہ ہمارے علاقے میں ایک قدیم قبرستان موجود ہے، جسے قائم ہوئے تقریباً ایک صدی یا اس سے بھی زیادہ عرصہ گزر چکا ہے، یہ قبرستان چند مقامی زمینداروں نے مسلمانوں کی تدفین کے لیے وقف کیا تھا۔ اس کے قیام کے بعد سے آج تک اس قبرستان میں نہ صرف ہمارے علاقے کے مسلمان، بلکہ گرد و نواح اور دوسرے علاقوں کے مسلمان بھی بلاامتیاز اپنی میتیں دفن کرتے رہے ہیں۔ طویل عرصے تک یہی معمول رہا اور کبھی کسی شخص یا خاندان کو میت دفن کرنے سے نہیں روکا گیا، بلکہ یہ قبرستان تمام مسلمانوں کے لیے مشترکہ طور پر استعمال ہوتا رہا۔ اب کچھ عرصہ قبل چند افراد نے ایک کمیٹی تشکیل دے کر یہ فیصلہ کر لیا کہ آئندہ اس قبرستان میں دوسرے علاقوں کے مسلمانوں کی میتیں دفن نہیں کی جائیں گی، ان کا کہنا ہے کہ قبرستان کی جگہ تنگ ہو چکی ہے، اس لیے اب صرف مخصوص علاقے کے لوگوں کو ہی یہاں تدفین کی اجازت ہوگی، جبکہ دوسرے علاقوں کے مسلمانوں کو میت دفن کرنے سے روک دیا جائے گا۔ اس صورتِ حال میں درج ذیل امور کے متعلق قرآن و سنت، فقہِ حنفی اور اکابر علماء کی روشنی میں راہنمائی فرمائی جائے: 1) اگر کوئی قبرستان مدتِ دراز سے تمام مسلمانوں کے لیے مشترکہ طور پر استعمال ہوتا رہا ہو تو کیا چند افراد یا کسی کمیٹی کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ دوسرے علاقے کے مسلمانوں کو وہاں تدفین سے روک دیں؟ 2) کیا صرف یہ عذر پیش کرنا کہ قبرستان کی جگہ تنگ ہو گئی ہے، شرعاً دوسروں کو تدفین سے روکنے کے لیے کافی ہے؟ 3) اگر یہ قبرستان وقفِ عام یا مسلمانوں کا مشترکہ قبرستان شمار ہوتا ہو تو کیا کسی مخصوص علاقے یا برادری کے ساتھ اس کو خاص کرنا جائز ہے؟ 4) ایسی صورت میں شرعی حکم کیا ہے؟ اور مسلمانوں کو اس معاملے میں کیا طرزِ عمل اختیار کرنا چاہیے؟ قرآن و حدیث، فقہِ حنفی اور معتبر فتاویٰ کی روشنی میں مدلل جواب عنایت فرما کر عند اللہ ماجور ہوں۔
1) اگر کوئی قبرستان عمومی وقف ہو اور کسی خاص شخص یا خاندان کی ملکیت نہ ہو تو وہاں کسی مسلمان کو محض علاقائی یا غیر علاقائی ہونے کی بنیاد پر تدفین سے روکنا جائز نہیں، ہر مسلمان کو اس میں دفن کیا جاسکتا ہے۔ 2) اگر کسی بستی کا قبرستان خصوصی طور پر وہاں کے مقامی رہائشیوں کے لیے وقف کیا گیا ہو اور واقف نے دوسرے لوگوں کی تدفین کی اجازت نہ دی ہو تو ایسے قبرستان میں باہر کے افراد کو اپنی مرضی سے دفن کرنا جائز نہیں ہوگا، ہاں، اگر قبرستان کی انتظامیہ یا متعلقہ ذمہ داران اجازت دے دیں تو ان کی اجازت سے تدفین کی گنجائش ہوگی۔ 3،4) قبرستان کی نوعیت اور واقف کی شرط کو ملحوظ رکھنا ضروری ہے اور اگر واقعی قبرستان میں دفن کرنے کی جگہ موجود ہو تو کسی مسلمان کی تدفین کے معاملے میں بلاوجہ رکاوٹ ڈالنے سے اجتناب کرنا چاہیے، ایسی صورت میں محبت کے ساتھ انہیں سمجھانا چاہیے اور ہر قسم کے اختلاف سے اجتناب کرنا بہتر ہے، یا کوئی قانونی راستہ اختیار کرنا چاہیے۔
فتح القدير للكمال بن الهمام:(220/6،ط:دار الفكر) (قوله وإذا صح الوقف) أي لزم، وهذا يؤيد ما قدمناه في قول القدوري وإذا صح الوقف خرج عن ملك الواقف. ثم قوله (لم يجز بيعه ولا تمليكه) هو بإجماع الفقهاء (إلا أن يكون مشاعا فيطلب شريكه القسمة عند أبي يوسف فتصح مقاسمته، أما امتناع التمليك فلما بينا) من قوله عليه الصلاة والسلام «تصدق بأصلها لا يباع ولا يورث ولا يوهب» ومن المعنى وهو أن الحاجة ماسة إلى آخره، ولأنه باللزوم خرج عن ملك الواقف وبلا ملك لا يتمكن من البيع. الشامية:(366/4،ط: دارالفكر) شرط الواقف كنص الشارع أي في المفهوم والدلالة، ووجوب العمل به قلت: لكن لا يخفى أن هذا إذا علم أن الواقف نفسه شرط ذلك حقيقة أما مجرد كتابة ذلك على ظهر الكتب كما هو العادة فلا يثبت به الشرط وقد أخبرني بعض قوام مدرسة إن واقفها كتب ذلك ليجعل حيلة لمنع إعارة من يخشى منه الضياع والله سبحانه أعلم. الهندية:(362/2،ط: دارالفكر) البقعة الموقوفة على جهة إذا بنى رجل فيها بناء ووقفها على تلك الجهة يجوز بلا خلاف تبعا لها، فإن وقفها على جهة أخرى اختلفوا في جوازه والأصح أنه لا يجوز كذا في الغياثية