تدفین

کسی غیرکی زمین کو بلااجازت میت کو دفنانے کا حکم

فتوی نمبر :
1147
عبادات / جنائز / تدفین

کسی غیرکی زمین کو بلااجازت میت کو دفنانے کا حکم

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کےبارے میں کہ ایک میت کو لوگوں ایک شخص کی زمین میں اس کے اجازت کے بغیر دفنادیا ہے اب وہ زمین کا مالک اس میت کو وہاں سے منتقل کرنے کا کہہ رہا ہے ۔
پوچھنا یہ ہے کہ اس میت کو وہاں سے نکالنا جائز ہے یا نہیں ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

کسی مسلمان کے لیے کسی دوسرے کی چیز اس کے اجازت کے بغیر استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہے ، لہذا پوچھی گئی صورت میں مالک کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اس میت کووہاں سے کہیں اور منتقل کروائے یا اس کی قبر ختم کرکے زمین ہموار کردے ۔

حوالہ جات

الدرالمختار: (2/ 238، ط: دارالفكر)
(ولا يخرج منه)بعد إهالة التراب (‌إلا) ‌لحق ‌آدمي ك (أن تكون الأرض مغصوبة أو أخذت بشفعة) ويخير المالك بين إخراجه ومساواته بالأرض كما جاز زرعه والبناء عليه إذا بلي وصار ترابا زيلعي.

الهندية: (1/ 167، ط: دارالفكر)
‌إذا ‌دفن ‌الميت ‌في أرض غيره بغير إذن مالكها فالمالك بالخيار إن شاء أمر بإخراج الميت وإن شاء سوى الأرض وزرع فيها، كذا في التجنيس.
مجمع الأنهر : (1/ 187، ط: دار إحياء التراث العربي )
(ولا يخرج ‌من ‌القبر ‌إلا أن تكون الأرض مغصوبة) وأراد صاحب الأرض إخراجه كما إذا سقط فيها متاع الغير وكفن بثوب مغصوب فإنه يجوز نبشه.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
44
فتوی نمبر 1147کی تصدیق کریں