آج کل ہاتھ میں پہننے والے بریسلیٹ عام استعمال ہو رہے ہیں، ان کا استعمال کرنا یا اپنی دکان پر فروخت کرنا شرعی اعتبار سے جائز ہے یا نہیں؟ براہ کرم قرآن و سنت اور معتبر فقہی دلائل کی روشنی میں راہنمائی فرمائیں، تاکہ صحیح مسئلہ معلوم ہو سکے۔ جزاکم اللہ خیرا
واضح رہے کہ لوہے اور اسٹیل کی انگوٹھی یا چھلے کا استعمال مرد اور عورت دونوں کے لیے جائز نہیں ہے اور اس کا کاروبار بھی جائز نہیں، البتہ مردوں کے لیے صرف چاندی کی انگوٹھی اور عورتوں کے لیے سونے اور چاندی دونوں کی انگوٹھی پہننا جائز ہے، اس کے علاوہ بریسلٹ کا استعمال عورتوں کے لیے تو جائز ہے، البتہ مردوں کے لیے جائز نہیں ہے،چونکہ بریسلٹ کا استعمال عورتوں کے لیے جائز ہے، اس لیے اس کا کاروبار کرنا فی نفسہ جائز ہوگا۔
رد المحتار: (6/ 363،ط:دارالفکر) وهي خيط كان يربط في العنق أو في اليد في الجاهلية لدفع المضرة عن أنفسهم على زعمهم، وهو منهي عنه وذكر في حدود الإيمان أنه كفر. الهندية: (5/ 335،ط:دارالفکر) وفي الخجندي التختم بالحديد والصفر والنحاس والرصاص مكروه للرجال والنساء جميعا، وأما العقيق ففي التختم به اختلاف المشايخ، وصحيح في الذخيرة أنه لا يجوز وقال قاضي خان الأصح أنه يجوز، كذا في السراج الوهاج. وأما اليشب ونحوه فلا بأس بالتختم به كالعقيق، كذا في العيني شرح الهداية. هو الصحيح، كذا في جواهر الأخلاطي. التختم بالعظم جائز، كذا في الغرائب. ولا بأس بأن يتخذ خاتم حديد قد لوي عليه فضة أو ألبس بفضة حتى لا يرى كذا في المحيط.