عقائد / /

اللہ کی طرف جھوٹ کی نسبت کرنے والے کے ایمان و نکاح کا حکم

فتوی نمبر : 3104 0000-00-00 25 مشاهدة

عضو هيئة كبار العلماء

السؤال

استفتاء کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید کہتا ہے سورۃ النزعت میں ہے کہ : فَقَالَ أَنَا رَبُّكُمُ الْأَعْلَى (النزعت: 24) "تو کہا میں ہوں رب تمہارا سب سے اوپر" اس میں اللہ تعالیٰ نے فرعون کے الفاظ دہرائے ہیں یعنی جو بات فرعون نے کی وہی بات اللہ تعالی نے کی۔ اور سورۃ ھود میں اللہ تعالی فرماتا ہے : فَقَالَ رَبِّ إِنَّ ابْنِي مِنْ أَهْلِي (هود: 45) "کہا اے رب میرا بیٹا ہے میرے گھر والوں میں" اس آیت میں اللہ تعالی نے حضرت نوح علیہ السلام کی بات کو دہرایا یعنی جس طرح حضرت نوح علیہ السلام نے بات کی بعینہ اسی طرح اللہ تعالی نے بات کی۔ ان مثالوں سے یہ ظاہر ہو گیا کہ جس طرح انسان بات کرتا ہے اللہ تعالی بھی اسی طرح بات کرتا ہے۔ سورۃ ھود میں اللہ تعالی فرماتا ہے : قَالَ يٰنُوْحُ اِنَّهٗ لَيْسَ مِنْ اَهْلِكَ (هود: 46) ” فرمایا اے نوح! وہ نہیں تیرے گھر والوں میں “ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح علیہ السلام کے بیٹے کا انکار فرمایا کہ یقینا وہ تیرے گھر سے نہیں ہے۔ حالانکہ وہ ان کا بیٹا ہے، لیکن اللہ تعالیٰ نے فرمایا وہ تیرے گھر سے نہیں ہے تو ظاہراً اللہ تعالی کی بات خلاف واقع ہوئی۔ یعنی واقعہ کے مطابق یہ ہے کہ ” ان ابنی من اهلی " یعنی: میرا بیٹا ہے میرے گھر والوں میں۔ اور واقعہ کے خلاف یہ ہے کہ "إِنَّهُ لَيْسَ مِنْ أَهْلِكَ" یعنی : وہ نہیں تیرے گھر والوں میں۔ گو اللہ تعالی نے بد اعمالی یا کفر کی وجہ سے یہ فرمایا کہ وہ تیرے گھر سے نہیں ہے، لیکن بات تو واقعہ کے خلاف ہے۔ ( مزید زید کہتا ہے۔ ناقل ) اب جھوٹ یا کذب کیا ہے ؟ کذب بولتے ہیں خلاف واقع کو۔ دریافت طلب امور یہ ہیں کہ :زید کا یہ کہنا کہ ” اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح علیہ السلام کے بیٹے کا انکار فرمایا کہ یقینا وہ تیرے گھر سے نہیں ہے۔ حالانکہ وہ ان کا بیٹا ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے فرمایا وہ تیرے گھر سے نہیں ہے ، تو ظاہراً اللہ تعالی کی بات خلاف واقع ہوئی۔ “ کیا یہ باری تعالی کی جانب وقوع کذب کی نسبت کرنا نہیں ؟ اس لئے کہ "انه ليس من اهلك" میں مطلق اہلیت کی نفی نہیں ہے کہ اللہ تعالی کا کلام خلاف واقع ہو۔ بلکہ یہاں معہود اہلیت کی نفی ہے۔ یعنی جس اہلیت کی وجہ سے نوح علیہ السلام کے بیٹے کو نجات مل سکے یہ ان اہل میں سے نہیں ہے جن کی نجات کا اللہ تعالی نے وعدہ فرمایا تھا۔ کما لا یخفی۔ پھر زید کا یہ کہنا "گو اللہ تعالی نے بد اعمالی یا کفر کی وجہ سے یہ فرمایا کہ وہ تیرے گھر سے نہیں ہے لیکن بات تو واقعہ کے خلاف ہے"۔ کیا یہ باری تعالی کی جانب صریح جھوٹ منسوب کر کے وقوع کذب کا قول کرنا نہیں ؟ حالانکہ شیخ الاسلام مفتی شبیر احمد عثمانی نور اللہ مرقدہ سورۃ ھود کی اسی آیت نمبر 46 کے تحت فرماتے ہیں : ”بلاشبہ آپ کا وعدہ سچا ہے۔ کسی کو یہ خیال نہیں گزر سکتا کہ معاذ اللہ وعدہ خلافی کی ہو۔ آپ احکم الحاکمین اور شہنشاہ مطلق ہیں۔ سمجھ میں آئے یا نہ آئے۔ کسی کو حق نہیں کہ آپ کے فیصلہ کے سامنے دم مار سکے ، یا آپ کو وعدہ خلافی پر مجبور کر دے، نہ کسی کا یہ منصب ہے کہ آپ کے حکم ناطق کے متعلق کسی قسم کی نکتہ چینی کر سکے۔ “ ( تفسیر عثمانی، جلد 2 ، ص 141-11) اسی طرح تہذیب شرح السنوسیہ میں ہے کہ ”وكل ما قدره العقل من نقص يستحيل على الله تعالى فيجب علينا نفيه على العموم“ - ( تهذیب شرح السنوسیه، ص 40) اسی طرح مسامرہ میں ہے ” لا خلاف بين الاشعرية وغيرهم في ان كل ما هو وصف نقص فى حق العباد فالبارى تعالى منزه عنه وهو محال عليه تعالى والكذب وصف نقص فى حق العباد“ ( المسامرة فى شرح المسايرة ، الركن الثالث العلم فافعال اللہ تعالی، ص 175) عبارت مذکورہ سے معلوم ہوا کہ کذب صفت نقص ہے اور صفت نقص کا سلب اللہ تعالی سے واجب ہے اور نقص کی نسبت اللہ تعالی کی طرف محال ہے۔ اسی طرح خلاصة الفتوی میں ہے کہ : " اذا وصف الله تعالى بما لا يليق به او سخر باسم الله او بأمر من او امره او انکر وعده و وعیده یکفر "۔ (خلاصة الفتوى، جلد 2 ، الفصل الثاني في الفاظ الكفر ، ص 383) ہمارے اکابرین کا تو یہ نظریہ ہے جبکہ دوسری جانب زید قبیح فعل ” وقوع کذب “ کی نسبت باری تعالی کی جانب کر رہا ہے۔ اور صریح جھوٹ بول رہا ہے۔ اب کیا زید باری تعالی کی جانب صریح جھوٹ منسوب کرتے ہوئے وقوع کذب کی نسبت نہیں کر رہا؟ پھر کیا زید تفسیر بالرائے نہیں کر رہا ؟ معاذ اللہ زید اپنے موقف پر مصر ہے۔ اب زید کے متعلق شریعت مطہرہ کا کیا حکم ہے ؟ زید شادی شدہ ہے تو اس کے نکاح کا کیا حکم ہے ؟ زید کے متعلق تجدید ایمان و تجدید نکاح کا کیا حکم ہے ؟ زید کے متعلق شریعت مطہرہ کی روشنی میں مدلل و مفصل شرعی رہنمائی فرمائیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ قرآنِ مجید میں حضرت نوح علیہ الصلاۃ والسلام کا یہ قول: ﴿رَبِّ إِنَّ ابْنِي مِنْ أَهْلِي﴾، اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ مذکور شخص حضرت نوح علیہ الصلاۃ والسلام کا حقیقی بیٹا تھا اور آپ کے اہل میں سے تھا۔ آگے اللہ رب العزت نے فرمایا: ﴿إِنَّهُ لَيْسَ مِنْ أَهْلِكَ﴾۔ اس جملے کی تفسیر میں مفسرینِ کرام نے دو توجیہات بیان فرمائی ہیں۔ پہلی توجیہ یہ ہے کہ ﴿إِنَّهُ لَيْسَ مِنْ أَهْلِكَ﴾ کا معنی یہ ہے کہ وہ ان لوگوں میں سے نہیں ہے جنہیں اللہ تعالیٰ نے نجات دینے کا وعدہ فرمایا تھا۔ دوسری توجیہ یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ آپ کے دین اور طریقے پر چلنے والوں میں سے نہیں ہے۔ اس کی مثال یوں سمجھیں کہ لوگ کسی نیک اور صالح شخص کی نافرمان اولاد سے یہ کہیں کہ: ’’آپ تو فلاں کے بیٹے نہیں لگتے‘‘، یا ’’آپ فلاں کے بیٹے نہیں ہوسکتے‘‘۔ اسی طرح کوئی شخص اپنی نافرمان اولاد سے بطورِ ناراضگی یہ کہے کہ: ’’تو میرا بیٹا نہیں ہے‘‘، یا لوگوں سے کہے کہ: ’’فلاں سے میرا کوئی تعلق نہیں‘‘، یا ’’میں نے فلاں کو عاق کر دیا ہے‘‘۔ ایسی تعبیریں حقیقی نسب کی نفی کے لیے نہیں ہوتیں، بلکہ ناراضی، عدمِ تعلق یا کسی خاص وصف سے محرومی ظاہر کرنے کے لیے استعمال ہوتی ہیں۔ نیز یہ بات واضح رہے کہ اللہ رب العزت کی طرف قصداً جھوٹ کی نسبت کرنا، یعنی معاذ اللہ یہ کہنا کہ اللہ رب العزت نے قرآنِ مجید میں جھوٹ فرمایا ہے، کفر کے کلمات میں سے ہے، جس کی وجہ سے انسان دائرۂ اسلام سے خارج ہوجاتا ہے، لہٰذا پوچھی گئی صورت میں اگر مذکور شخص نے قصداً اللہ رب العزت کی طرف جھوٹ کی نسبت کی ہے اور اس بات پر مصر ہے کہ معاذ اللہ! اللہ رب العزت نے قرآنِ مجید میں جھوٹ فرمایا ہے تو وہ شخص دائرۂ اسلام سے خارج ہوگیا، اس پر لازم ہے کہ مذکور قول سے سچی توبہ کرے، نئے سرے سے کلمۂ ایمان پڑھے اور تجدیدِ ایمان کرے۔ اگر وہ شادی شدہ ہے تو تجدیدِ ایمان کے ساتھ تجدیدِ نکاح بھی ضروری ہے، تجدیدِ نکاح کے بغیر بیوی کے ساتھ ازدواجی تعلق قائم کرنا شرعاً جائز نہیں ہوگا۔

صحيح البخاري: (رقم الحدیث:127،ط:دار طوق النجاۃ) وقال علي: «حدثوا الناس بما يعرفون، أتحبون أن يكذب الله ورسوله؟ تفسير الرازي: (18/ 357،ط:دار إحياء التراث العربي ) [في قوله تعالى ونادى نوح ربه فقال رب إن ابني من أهلي وإن وعدك الحق وأنت أحكم الحاكمين] المسألة الأولى: اعلم أن قوله: رب إن ابني من أهلي فقد ذكرنا الخلاف في أنه هل كان ابنا له أم لا فلا نعيده، ثم إنه تعالى ذكر أنه قال: يا نوح إنه ليس من أهلك واعلم أنه لما ثبت بالدليل أنه كان ابنا له وجب حمل قوله: إنه ليس من أهلك على أحد وجهين: أحدهما: أن يكون المراد أنه ليس من أهل دينك. والثاني: المراد أنه ليس من أهلك الذين وعدتك أن أنجيهم معك والقولان متقاربان. المسألة الثانية: هذه الآية تدل على أن العبرة بقرابة الدين لا بقرابة النسب فإن في هذه الصورة/ كانت قرابة النسب حاصلة من أقوى الوجوه ولكن لما انتفت قرابة الدين لا جرم نفاه الله تعالى بأبلغ الألفاظ وهو قوله: إنه ليس من أهلك. المهند على المفند:(68،ط:دار الفتح الدراسات والنير) ما قولكم دام فضلكم في أنّ الله تعالى هل يتصف بصفة الكذب أم لا؟ ومن يعتقد أنه يكذب كيف حكمه؟ أفتونا مأجورين. الجواب :إنّ الله تعالى منزّة من أن يتصف بصفة الكذب وليست في كلامه شائبة الكذب أبداً كما قال الله تعالى: ﴿وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ حَدِيثًا ﴾ [النساء: ۸۷] ، ومن يعتقد ويتفوه بأنّ الله تعالى يكذب فهو كافر ملعون قطعاً، مخالف للكتاب والسنة وإجماع الأمة. «تفسير القرطبي = الجامع لأحكام القرآن: (9/ 45،ط:دار الکتب المصرية) ونادى نوح ربه فقال رب إن ابني من أهلي وإن وعدك الحق وأنت أحكم الحاكمين (45) قال يا نوح إنه ليس من أهلك إنه عمل غير صالح فلا تسئلن ما ليس لك به علم إني أعظك أن تكون من الجاهلين (46) قال رب إني أعوذ بك أن أسئلك ما ليس لي به علم وإلا تغفر لي وترحمني أكن من الخاسرين (47) فيه خمس مسائل: الأولى- قوله تعالى: (ونادى نوح ربه) أي دعاه. (فقال رب إن ابني من أهلي) أي من أهلي الذين وعدتهم أن تنجيهم من الغرق، ففي الكلام حذف. (وإن وعدك الحق) يعني الصدق. وقال علماؤنا: وإنما سأل نوح ربه ابنه لقوله:" وأهلك" وترك قوله:" إلا من سبق عليه القول" [هود: 40] فلما كان عنده من أهله قال:" رب إن ابني من أهلي" يدل على ذلك قوله:" ولا تكن مع الكافرين" أي لا تكن ممن لست منهم، لأنه كان عنده مؤمنا في ظنه، ولم يك نوح يقول لربه:" إن ابني من أهلي" إلا وذلك عنده كذلك إذ محال أن يسأل هلاك الكفار، ثم يسأل في إنجاء بعضهم، وكان ابنه يسر الكفر ويظهر الإيمان، فأخبر الله تعالى نوحا بما هو منفرد به من علم الغيوب، أي علمت من حال ابنك ما لم تعلمه أنت. وقال الحسن: كان منافقا، ولذلك استحل نوح أن يناديه. وعنه أيضا: كان ابن امرأته، دليله قراءة علي" ونادى نوح ابنها". (وأنت أحكم الحاكمين) ابتداء وخبر. أي حكمت على قوم بالنجاة، وعلى قوم بالغرق«الثانية- قوله تعالى: (قال يا نوح إنه ليس من أهلك) [أي ليس من أهلك] الذين وعدتهم أن أنجيهم، قاله سعيد بن جبير. وقال الجمهور: ليس من أهل دينك ولا ولايتك. مجمع الأنهر:(687/1،ط:دار إحياء التراث العربي) "فما يكون كفرًا بالاتفاق يوجب إحباط العمل كما في المرتد وتلزم إعادة الحج إن كان قد حجّ ويكون وطؤه حينئذ مع امرأته زنا والولد الحاصل منه في هذه الحالة ولد الزنا، ثم إن أتى بكلمة الشهادة على وجه العادة لم ينفعه ما لم يرجع عما قاله؛ لأنه بالإتيان بكلمة الشهادة لايرتفع الكفر، وما كان في كونه كفرًا اختلاف يؤمر قائله بتجديد النكاح وبالتوبة والرجوع عن ذلك احتياطًا، وما كان خطأً من الألفاظ لايوجب الكفر فقائله مؤمن على حاله ولايؤمر بتجديد النكاح ولكن يؤمر بالاستغفار والرجوع عن ذلك، هذا إذا تكلم الزوج، فإن تكلمت الزوجة ففيه اختلاف في إفساد النكاح، وعامة علماء بخارى على إفساده لكن يجبر على النكاح ولو بدينار وهذا بغير الطلاق".
واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
احمد اللہ،محمد نبی،فضل نبی اورفضل طارق نام رکھنا
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
ناپاک پانی کو گھر کی تعمیر میں استعمال کرنا
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
عصر کے بعد ناخن کاٹنے کا حکم
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
حاملہ عورت کا میت کے گھر جانا
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
*کیا ماہِ محرم کی فضیلت حضرت حسین کی شہادت کی وجہ سے ہے؟*
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
مسافر مقتدی کا مسافر امام کے پیچھے چار رکعت نماز کی نیت کرنا
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
قاعدۂ اولیٰ میں درود شریف پڑھنے کا حکم
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
بینک کے لیے سوفٹ ویئر بنانا
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
چھپکلی کے ٹینکی میں گر کر مرنے سے پانی کا حکم
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
تصویر والے کمرے میں نماز کا حکم
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
زندگی میں اپنی قبر کے لیے جگہ خرید کر مختص کرنا
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
قعدہ اخیرہ میں ایک سے زائد دعائیں پڑھنا
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
شرم گاہ دیکھنے سے وضو ٹوٹنے کاحکم
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
جائے نماز پر محمد نام لکھنا
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
داڑھی منڈے کے پیچھے نماز پڑھنے کا حکم
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
فرائی چکن بروسٹ کا حکم
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
مسبوق کا امام کے پیچھے التحیات،درود اور دعا پڑھنا
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
عقد بیع میں شرط فاسد لگانے سے بیع کا حکم
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
فجر کی نماز کی قضا کا وقت
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
آتش بازی دیکھنے کا حکم
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
واقف کا مسجد میں لوگوں کو نماز پڑھنے سے روکنا اور امام کے تقرر میں اختلاف کا حکم
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
عاقدین سے دلالی کی اجرت لینے کا حکم
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
نہر میں نجاست گرنے کی صورت میں وضو یا غسل کا حکم
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
غیرمسلم کو مکان کرایہ پر دینا