مفتی صاحب ! میں نے اپنے ایک دوست سے قسطوں پر موٹر کار خریدی ہے، جس کی قسطیں ایک سال سے وقت پر دیتا آرہا ہوں، اب میرے پاس کہیں سے پیسے آ گئے ہیں اور پوری رقم دینا چاہتا ہوں، جبکہ میری قسطوں کا وقت ابھی باقی ہے اور اس کی طرف سے کوئی مطالبہ بھی نہیں ہے، میں خود وقت سے پہلے ادا کرنا چاہتا ہوں اس کا شرعی طریقہ کیا ہوگا ؟
واضح رہے کہ قسطوں پر خریدی ہوئی چیز کی اصل قیمت، وہی ہوگی جو خریداری کے وقت مقرر کی گئی تھی، اس میں کسی قسم کی کمی اور زیادتی جائز نہیں ہے ، چاہے بعد میں تمام قسطیں یکمشت ادا کی جائیں یا اپنے وقت مقررہ پر ، البتہ اگر فروخت کنندہ (سائل) وقت سے پہلے رقم ادا کرنے پر غیرمشروط طورپر ، اپنی مرضی وخوشی سے خریدار کے مطالبہ کے بغیر کچھ رقم کم کردے تو یہ جائز ہوگا، تاہم ایسا کرنا اس پر لازم اور ضروری نہیں اور نہ ہی خریدار کو اِس کے مطالبہ کا حق حاصل ہے، لہذا پوچھی گئی صورت میں آپ اگر موٹر کار کی بقیہ قیمت ایک ساتھ ادا کرنا چاہتے ہیں تو وہی قیمت ادا کرنا ہوگی جو معاملہ کرتے وقت طے ہوئی تھی،اس سے کم دینا جائز نہیں، البتہ اگر اپ کا دوست اپنی رضامندی سے کچھ قیمت کم کر دے تو یہ جائز ہے۔
الهداية:(195/3،ط: دار احياء التراث العربي،) قال: "ولو كانت له ألف مؤجلة فصالحه على خمسمائة حالة لم يجز" لأن المعجل خير من المؤجل وهو غير مستحق بالعقد فيكون بإزاء ما حطه عنه، وذلك اعتياض عن الأجل وهو حرام "وإن كان له ألف سود فصالحه على خمسمائة بيض لم يجز" لأن البيض غير مستحقة بعقد المداينة وهي زائدة وصفا فيكون معاوضة الألف بخمسمائة وزيادة وصف وهو ربا، بخلاف ما إذا صالح عن الألف البيض على خمسمائة سود حيث يجوز لأنه إسقاط كله قدرا ووصفا، وبخلاف ما إذا صالح على قدر الدين وهو أجود لأنه معاوضة المثل بالمثل، ولا معتبر بالصفة إلا أنه يشترط القبض في المجلس، ولو كان عليه ألف درهم ومائة دينار فصالحه على مائة درهم حالة أو إلى شهر صح الصلح لأنه أمكن أن يجعل إسقاطا للدنانير كلها والدراهم إلا مائة وتأجيلا للباقي فلا يجعل معاوضة تصحيحا للعقد أو لأن معنى الإسقاط فيه ألزم. قال: "ومن له على آخر ألف درهم فقال أد إلي غدا منها خمسمائة على أنك بريء من الفضل ففعل فهو بريء، فإن لم يدفع إليه الخمسمائة غدا عاد عليه الألف وهو قول أبي حنيفة ومحمد.. بحوث في قضايا فقهية معاصرة:(33،ط:دارالقلم) وكذلك المنع من الوضع بالتعجيل في الديون المؤجلة إنما يكون إذا كان الوضع شرطا للتعجيل. أما إذا عجل المدين من غير شرط، جاز للدائن أن يضع عنه بعض دينه تبرعا. وعليه حمل الجصاص رحمه الله الآثار التي تدل على جواز "ضع وتعجل...