مفتی صاحب ! ایک کاروباری مسئلہ ہے وہ یہ کہ ایک دکاندار دوسری دکاندار سے کہتا ہے کہ تم تیسری دکاندار سے میرے لیے فلاں والا لیپ ٹاپ ایک لاکھ روپے میں خرید لو وہی لیپ ٹاپ دوسرا دکاندار تیسری دکاندار سے 90 ہزار میں خرید لیتا ہے پھر وہی 90 ہزار والا لیپ ٹاپ دوسرے دکاندار کو ایک لاکھ میں فروخت کرتا ہے اور 10 ہزارروپے اپنے لیے رکھ لیتا ہے کیا اس طرح سے یہ 10 ہزار روپے کمانا جائز ہے ؟اور اگر بازار میں اس قسم کا تعامل دکانداروں کے درمیان جاری ہو، تو اس کا کیا حکم ہے ؟
مذکور ہ صورت میں دوسر ےدکاندار کے لیے پہلے دکاندار کو بتائے بغیر 10 ہزار روپے رکھنا جائز نہیں، کیونکہ دوسرا دکاندار وکیل بالشرا ہے ،یعنی پہلی دکاندار کی طرف سے مذکورہ لیپ ٹاپ خریدنے کا وکیل ہے اور وکیل امین ہوتا ہے ،البتہ اگر پہلے دکان دار کو بتائے کہ یہ 90 ہزار کا ملا ہے اور 10 ہزار میں رکھنا چاہتا ہوں اور وه اس پر راضی ہو جائے تو اس کی گنجائش ہے۔
المبسوط للسرخسي: (11/ 167، ط: دارالمعرفة ) لأن الوكيل أمين فيقبل قوله. بدائع الصنائع : (6/ 27، ط: دارالكتب العلمية ) (وأما) : الوكيل بالبيع فالتوكيل بالبيع لا يخلو إما أن يكون مطلقا، وإما أن يكون مقيدا، فإن كان مقيدا يراعى فيه القيد بالإجماع، حتى إنه إذا خالف قيده لا ينفذ على الموكل ولكن يتوقف على إجازته إلا أن يكون خلافه إلى خير لما مر أن الوكيل يتصرف بولاية مستفادة من قبل الموكل، فيلي من التصرف قدر ما ولاه، وإن كان الخلاف إلى خير فإنما نفذ؛ لأنه إن كان خلافا صورة فهو وفاق معنى؛ لأنه آمر به دلالة فكان متصرفا بتولية الموكل، فنفذ بيان هذه الجملة إذا قال: بع عبدي هذا بألف درهم فباعه بأقل من الألف لا ينفذ، وكذا إذا باعه بغير الدراهم، لا ينفذ، وإن كانت قيمته أكثر من ألف درهم؛ لأنه خلاف إلى شر؛ لأن أغراض الناس تختلف باختلاف الأجناس فكان في معنى الخلاف إلى شر.