کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ ہمارے چاول کا کاروبار ہے ہم کمپنیوں سے چاول کی پوری پوری لاٹ خریدتے ہیں اور پھر ہول سیل اور ریٹیلر کو بیچتے ہیں چاول کا کھٹہ تقریبا 25 کلو کا ہوتا ہے، جو اچھی اور بڑی کمپنی ہیں، ان کے کھٹے کا وزن پورا 25 کلو ہی ہوتا ہے، لیکن جو لوکل کمپنی ہیں ان کا کھٹہ کبھی 24 کلو 700 گرام اور کبھی 24 کلو 600 گرام کا ہوتا ہے اب بعض لوگ 25 کلو کا بول کر پورا کھٹہ بیچتے ہیں حالانکہ وہ 25 کلو پورا نہیں ہوتا اور ہم لوگ کھٹہ وزن کر کے کلو کے حساب سے اس کی قیمت لگا کر بیچتے ہیں دونوں طرح کے فروخت کا کیا حکم ہے؟
واضح رہے کہ چاول کے تھیلے (کھٹے) اگر حقیقت میں 25 کلو سے کم ہوں، مثلاً 24 کلو 700 گرام یا 24 کلو 600 گرام، تو انہیں “پورا 25 کلو” کہہ کر فروخت کرنا شرعاً جائز نہیں ،کیونکہ یہ دھوکہ اور خیانت ہے ،جو کہ شرعا ناجائز اور حرام ہے ،صحیح طریقہ یہ ہے کہ تھیلہ وزن کر کے جتنا وزن نکلے، اسی کے حساب سے قیمت مقرر کر کے فروخت کیا جائے۔
القرأن الكريم : [البقرة:/2 283] فَلۡيُؤَدِّ ٱلَّذِي ٱؤۡتُمِنَ أَمَٰنَتَهُۥ وَلۡيَتَّقِ ٱللَّهَ رَبَّهُۥۗ . صحيح مسلم: (1/ 69، رقم الحديث : 164 - (102)،ط: دار طوق النجاة ) عن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم مر على صبرة طعام فأدخل يده فيها، فنالت أصابعه بللا، فقال: ما هذا يا صاحب الطعام؟ قال: أصابته السماء، يا رسول الله. قال: أفلا جعلته فوق الطعام كي يراه الناس؟ من غش فليس مني . الدرالمختار : (4/ 542، ط: دارالفكر) (وإن باع صبرة على أنها مائة قفيز بمائة درهم وهي أقل أو أكثر أخذ) المشتري (الأقل بحصته) إن شاء (أو فسخ) لتفرق الصفقة وكذا كل مكيل أو موزون ليس في تبعيضه ضرر. (وما زاد للبائع) لوقوع العقد على قدر معين. الفقه الإسلامي وأدلته للزحيلي: (5/ 3680، ط: دارالفكر) من اشترى صبرة طعام على أنها مئة قفيز بمئة درهم مثلاً، فوجدها المشتري أقل مما حدد له، كان المشتري بالخيار: إن شاء أخذ الموجود بحصته من الثمن لأنه يمكن قسمة الثمن على أجزاء المبيع المثلي.