کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں تقریبا پانچ برس پہلے میری بیوی نے گھریلو جھگڑوں کی وجہ سے عدالت میں جا کر خلع کا مقدمہ کر دیا عدالت نے سماعت کے بعد خلع کا حق میری بیوی کو دے دیا اور ہماری علاحدگی ہو گئی، ہمارا ایک بیٹا بھی تھا عدالت کے حکم کے مطابق میں نے بیٹے کا خرچ جو عدالت نےمقرر کیا تھا میں دیتا آرہا ، لیکن میں نے اپنی بیوی کو نہ تو زبان سے طلاق دی، اورنہ ہی تحریری طور پر ،اب چند ماہ پہلے ایک مفتی صاحب سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ اگر خاوند زبان سے یا تحریری طلاق نہیں دی، تو طلاق نہیں ہوئی اب ہم دونوں میاں بیوی تقریبا پانچ سال بعد پھر اکٹھے رہ رہے ہیں اس لیے ہمارے رشتہ دار ہمیں لعن طعن کر رہے ہیں کیا ہمارا اکٹھے رہنا درست ہے یا نہیں ؟
واضح رہے کہ خلع کے لیے شوہر کی رضامندی ضروری ہے،لہذااگر شوہر نے عدالتی خلع کے فیصلہ کے بعد زبانی یا تحریری رضامندی کے ساتھ خلع کو قبول کیا ہو تو شرعا چوں کہ خلع ایک طلاق بائن کے حکم میں ہے، اس لیے ایسی صورت میں نکاح ختم ہوچکا ہے، دونوں کا میاں بیوی کی طرح رہنے کے لئے باہمی رضامندی سے نئے مہر اور شرعی گواہوں کی موجودگی میں نئے ایجاب وقبول کے ساتھ دوبارہ کرنا نکاح کرنا ضروری ہے،لیکن اگر عورت نے شوہر کی رضامندی کے بغیر عدالت سے خلع لی ہواور شوہر نے عدالتی خلع پر رضامندی ظاہر کی ہو اور نہ ہی شوہر نے اس کو طلاق دی ہو تو ایسی صورت میں نکاح برقرار ہے، دونوں کا میاں بیوی کی طرح رہنا جائز ہے۔
الشامية : (3/ 440، ط: دارالفكر) فقالت: خلعت نفسي بكذا، ففي ظاهر الرواية لا يتم الخلع ما لم يقبل بعده. بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع: (3/ 145،ط: دارالكتب العلمية ) وأما ركنه فهو الإيجاب والقبول؛ لأنه عقد على الطلاق بعوض فلا تقع الفرقة، ولا يستحق العوض بدون القبول.