خلع

ایک طرفہ خلع کا حکم

فتوی نمبر :
2170
معاملات / احکام طلاق / خلع

ایک طرفہ خلع کا حکم

میرا نام حمیرہ عبدالکریم ہے،میری شادی 2019 میں عثمان غنی سے ہو ئی،وہ سرکاری ملازم تھے،شادی سے پہلے ہمیں معلوم نہیں تھا کہ وہ شراب پیتے اور بیچتےہیں،شادی کے بعد ہمیں معلوم ہوا کہ وہ غیر شرعی کاموں میں مبتلا ہے، میں نے انہیں روکنے کی بہت کوشش کی اس کے با وجود وہ شراب کے کاروبار میں مبتلا رہے، میرے منع کرنے پر ظلم کرتے اور چھوڑنے کی دھمکیاں دیتے،مجھے نماز اور قرآن سے روکتے،ان تمام حالات سے تنگ آکر میں نے عدالت سے خلع کی درخواست کی ،میرے شوہر نے عدالت میں خلع نامہ پر سائن کرنے سے انکار کردیا،شوہر کے سائن کے بغیر ہی عدالت نے میری خلع کردی،میری خلع عدالت میں 24 ستمبر 2024 کو ہوئی ،میں عدت بھی پوری کر چکی ہوں ،کیا میری خلع شرعی طور پر ہو چکی ہے یا نہیں ،کیا میں اب دوسری شادی کر سکتی ہوں یا نہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

خلع اور طلاق دونوں کا اختیار شوہر کے پاس ہوتا ہےاور وہی دے سکتا ہے،خلع کے شرعاً درست ہونے کے لیے شوہر اور بیوی دونوں کی رضا مندی ضروری ہے،کسی ایک شریک کی رضا مندی یا دستخط نہ کرنے کی وجہ سے خلع درست نہیں ہوتا، آپ نے جو خلع عدالت سے لیا ہے وہ شرعاً معتبر نہیں ، آپ کا آپ کے شوہر عثمان غنی سے نکاح برقرار ہے،لہذا آپ دوسری جگہ شادی یا نکاح نہیں کرسکتیں۔

حوالہ جات

کما فی القرآن الکریم:
ولَا يَحِلُّ لَكُمْ أَنْ تَأْخُذُوا مِمَّا اتَيْتُمُوهُنَّ شَيْئًا الآن يَخَافَا الا يُقِيمَا حُدُودَ اللهِ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا فِيمَا افْتَدَتْ بِهِ تِلْكَ حُدُودُ اللهِ فَلَا تَعْتَدُ وَهَا وَمَنْ يَتَعَدَّ حُدُودَ اللهِ فَأُولَئِكَ هُمُ الظَّلِمُونَ .
البقرۃ:229
کما فی الترمزی :
البینۃ علی المدعی،والیمین علی مدعی علیہ
الامام الترمذی،محمد بن عیسی:ج1،ص651،م رحیمیہ ،لاھور
کما فی بدائع الصنائع:
"وأما ركنه فهو الإيجاب والقبول؛ لأنه عقد على الطلاق بعوض فلا تقع الفرقة، ولا يستحق العوض بدون القبول."
الکاسانی،ابوبکر بن مسعود:ج3،ص145،م دارالکتب العلمیۃ
کما فی شامی:
"وأما ركنه فهو كما في البدائع: إذا كان بعوض الإيجاب والقبول؛ لأنه عقد على الطلاق بعوض فلا تقع الفرقة ولا يستحق العوض بدون القبول"
ابن عابدین،محمد امین:ج3،ص441،سعید کراچی


کما فی الفتاوی الھندیہ:
في البحر الرائق إذا رفعت المرأة زوجها إلى القاضي وادعت أنه عنين وطلبت الفرقة فإن القاضي يسأله ........فالقول قول الزوج مع يمينه كذا في السراج الوهاج فإن حلف لا حق لها،وإن نكل يؤجله سنة كذا في الهداية..جاءت المرأة إلى القاضي بعد مضي الأجل وادعت أنه لم يصل إليها وادعى الزوج الوصول،فإن كانت ثيبا في الأصل كان القول قوله مع اليمين،فإن حلف بطل حقها،وان نکل حیرھا القاضی.......... إن اختارت الفرقة امر القاضي أن يطلقها طلقة بائنة فإن أبي فرق بينهما هكذا ذكر محمد - رحمه الله تعالى –في الأصل كذا في التبيين والفرقة تطليقة بائنة كذا في الكافي ولها المهر كاملا وعليها العدة بالإجماع إن كان الزوج قد خلا بها، وإن لم يخل بها فلا عدة عليها ولها نصف المهر إن كان مسمى والمتعة إن لم يكن مسمى كذا في البدائع.
الشیخ نظام و جماعتہ:ج1،ص529،م رشیدیہ کوئٹہ

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
45
فتوی نمبر 2170کی تصدیق کریں