السلام علیکم محترم
مسئلہ یہ ہے کہ میاں بیوی کسی وجہ سے لڑائ ہوئ اور الگ ہو گۓ لیکن شوہر نے طلاق نہیں دی کچھ دیر بعد لڑکی والے کوٹ میں کیس کرتے ہیں اور خلع کا مطالبہ کرتے ہیں یا کہتے ہیں کہ طلاق دے دو لیکن شوہر نے طلاق نہیں دی۔کوٹ کی طرف سے شوہر کو دو یا تین نوٹس بھی آۓ کہ آپ عدالت میں آؤ لیکن شوہر وہاں بھی نہیں گیا ۔پھر عدالت نے عورت کو خلع دے دی اور عورت نے آگے شادی بھی کر لی اب اس عورت کا آگے شادی کرنا صحیح تھا یا نہیں جبکہ اسکے سابقہ شوہر نے طلاق نہیں دی
خلع دیگر مالی معاملات کی طرح ایک مالی معاملہ ہے، جس طرح دیگر مالی معاملات معتبر ہونے کے لیے جانبین کی رضامندی ضروری ہے، اسی طرح خلع معتبر ہونے کے لیے بھی میاں بیوی کی رضامندی ضروری ہے، شوہر کی اجازت اور رضامندی کے بغیر اگر بیوی یکطرفہ خلع لے لے تو شرعاً ایسا خلع معتبر نہیں۔
پوچھی گئی صورت میں عدالتی خلع شوہر کی رضامندی کے بغیر درست نہیں لہذا نکاح بدستور باقی ہے،عورت کا آگے کسی اور شخص سے نکاح کرنا جائز نہیں،عورت کو چاہیے کہ فوراً دوسرے شوہر سے جدائی اختیار کرے ۔
*بدائع الصنائع:(145/3،ط:دارالکتب العلمیة)*
"وأما ركنه فهو الإيجاب والقبول؛ لأنه عقد على الطلاق بعوض فلاتقع الفرقة، ولايستحق العوض بدون القبول.
*أحكام الأحوال الشخصية في الشريعة الإسلامية (ص:165،ط:دار الکتب المصریة)*
وأما القاضي فلا يطلق الزوجة بناء على طلبها إلا في خمس حالات: التطليق لعدم الإنفاق، والتطليق للعيب و التطليق للضرر، والتطليق لغيبة الزوج بلا عذر، والتطليق لحبسه.