حضرت ایک مسئلہ ہےلڑکی کا نکاح ہوا ، لیکن لڑکے کی طرف سے مہر کی ادائیگی اور لڑکی کی رخصتی کچھ بھی نہیں ہوئی اور نکاح ختم کرنا ہے لڑکا طلاق نہیں دے رہا اور لڑکی نے خلع کا مقدمہ دائر کر کے کورٹ سے خلع لے لیا ہے ، جبکہ شرعی اعتبار سے کورٹ کا خلع واقع نہیں ہوتا ، جب کورٹ سے رجوع کیا فسخ نکاح کے لئے تو جواب ملا کہ یہ خلع ہی فسخ نکاح ہے ۔اب آیا فسخ ہوا یا نہیں ؟
رہنمائی فرما دیں۔ جزاك اللّٰه خيرًا
پوچھی گئی صورت میں عدالتی خلع شوہر کی رضامندی کے بغیر درست نہیں اور عدالت کو جن وجوہات کی بنا پر فسخ نکاح کا اختیار حاصل ہوتا ہے، ان میں سے کوئی صورت موجود نہ ہونے کی وجہ سے نکاح فسخ نہیں ہوا، لہذا نکاح بدستور باقی ہے۔
*أحكام الأحوال الشخصية في الشريعة الإسلامية (ص:165،ط:دار الکتب المصریة)*
وأما القاضي فلا يطلق الزوجة بناء على طلبها إلا في خمس حالات: التطليق لعدم الإنفاق، والتطليق للعيب و التطليق للضرر، والتطليق لغيبة الزوج بلا عذر، والتطليق لحبسه.
*بدائع الصنائع:(145/3،ط:دارالکتب العلمیة)*
"وأما ركنه فهو الإيجاب والقبول؛ لأنه عقد على الطلاق بعوض فلاتقع الفرقة، ولايستحق العوض بدون القبول.