خلع

خلع میں حق مہرکا مطالبہ کرنا

فتوی نمبر :
2181
معاملات / احکام طلاق / خلع

خلع میں حق مہرکا مطالبہ کرنا

مفتی صاحب !
عورت جب خلع لیتی ہے تو اس کو حق مہر نہیں ملتا سوائے ان چیزوں کے جو وہ اپنے گھر سے لے کے آئی تھی جیسے فرنیچر ہو گیا یا کوئی کپڑے یا سونا جو اس کے گھر والوں نے دیا ہو وہ سب لے جا سکتی ہے، اس کے علاوہ حق مہر میں کچھ نہیں لے کے جا سکتی، اگر مرد خوشی سے دے تو ٹھیک ہے، لیکن اگر عورت یا عورت کے گھر والے زبردستی حق مہر لیں دھمکیوں سے تو کیا وہ حق مہر لینا جائز ہو گا یا نہیں ؟
خلع لینے کی وجہ یہ ہے کہ شادی سے پہلے نہیں بتایا کہ لڑکا سن نہیں سکتا، یہ بات لڑکے کے گھر والوں نے چھپا کے رکھی اور اب چار سال بعد لڑکی کو خلع چاہیے تو ایسی صورتحال میں خلع لے رہے ہیں اور وجہ یہ رکھی گئی ہے کہ انہوں نے چھپا کے رکھا بتایا نہیں تو ہمیں حق مہر چاہیے تو یہ اس طرح زبردستی حق مہر لینا جائز ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

نکاح ایک مقدس و معزز رشتہ ہے، اس لیے شوہر اور بیوی دونوں پر لازم ہے کہ بغیر کسی معقول وجہ کے طلاق دینے ، خلع یا طلاق کا مطالبہ کرنے سے گریز کریں، گھریلو زندگی میں پیش آنے والی ناخوشگوار باتوں پر صبر، برداشت اور حکمت سے کام لینا چاہیے اور دونوں میاں بیوی اپنے اپنے حقوق کو ملحوظ رکھتے ہوئے گھر کو آباد رکھنے کی کوشش کریں۔
اگر اختلافات بڑھ جائیں اور معاملہ خود حل نہ ہو سکے تو گھر کے سمجھ دار اور معزز بزرگوں کی مدد سے اصلاح کی کوشش کی جائے ،شریعت کی ہدایت یہی ہے کہ جہاں تک ممکن ہو، رشتہ بچانے کی کوشش کی جائے، البتہ اگر معاملہ اس حد تک پہنچ جائے کہ نباہ کی کوئی صورت باقی نہ رہے اور یہ اندیشہ ہو کہ زوجین اللہ کی مقرر کردہ حدود کو قائم نہیں رکھ سکیں گے تو جدائی کا راستہ اختیار کرنا جائز ہے۔
اگر رشتے میں خرابی اور زیادتی لڑکی کی طرف سے ہو تو لڑکے والے طلاق کے بدلے صرف مہر کے بقدر رقم کا مطالبہ کر سکتے ہیں، مہر سے زیادہ لینا شرعاً ناپسندیدہ ہے، تاہم اگر لے لیا تو اس کی گنجائش ہے۔
اور اگر زیادتی لڑکے والوں کی جانب سے ہو تو ان کے لیے طلاق کے بدلے کسی بھی قسم کا مالی مطالبہ کرنا جائز نہیں۔

حوالہ جات

*العناية شرح الهداية:(218/4،ط:دار الفكر)*
وإن طلقها على مال) مثل أن قال أنت طالق بألف درهم أو على ألف درهم (فقبلت وقع الطلاق ولزم المال) لأن هذا تصرف معاوضة يعتمد أهلية المتعاوضين وصلاحية المحل والكل حاصل، أما أهلية الزوج فلأنه يستبد بالطلاق تنجيزا وتعليقا لا محالة، وقد علقه بقبولها بدلالة مقام المعاوضة فإن الحكم فيه متعلق بالقبول، وأما أهلية المرأة فلأنها تملك التزام المال لولايتها على نفسها، وأما صلاحية المحل فلأن ملك النكاح مما يجوز الاعتياض عنه، وإن لم يكن مالا كالقصاص فإنه ليس بمال، وجاز أخذ العوض عنه والجامع وجود التزام من أهله، كذا في بعض الشروح (وإذا وقع الطلاق كان بائنا لما بينا) أنها لا تسلم المال إلا لتسلم لها نفسها (ولأنه معاوضة المال بالنفس وقد ملك الزوج أحد البدلين فتملك الزوجة البدل الآخر وهو النفس تحقيقا للمساواة).

*مجمع الأنهر:(759/1،ط:دار إحياء التراث العربي)*
(وكره) [له أي للزوج أخذ شيء من المهر وإن قل لقوله تعالى ﴿فلا تأخذوا منه شيئا﴾ [النساء: ٢٠] إن نشز الزوج وكره أخذ أكثر مما أعطاها من المهر إن نشزت] تحريما وقيل تنزيها (له) أي للزوج (أخذ شيء) من المهر وإن قل لقوله تعالى ﴿فلا تأخذوا منه شيئا﴾ [النساء: ٢٠] (إن نشز) الزوج أي كرهها وباشر أنواع الأذى.
(و) كره (أخذ أكثر مما أعطاها) من المهر (إن نشزت) المرأة فلا يكره أخذ ما قبضته منه هذا على رواية الأصل وعلى رواية الجامع لم يكره أن يأخذ أكثر مما أعطاها لكن اللائق بحال المسلم أن يأخذ ناقصا من المهر حتى لا يخلو الوطء عن المال.

*الدر المختار:(445/3،ط: دارالفكر)*
(وكره) تحريما (أخذ شيء) ويلحق به الإبراء عما لها عليه (إن نشز وإن نشزت لا) ولو منه نشوز أيضا ولو بأكثر مما أعطاها على الأوجه فتح، وصحح الشمني كراهة الزيادة، وتعبير الملتقى لا بأس.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
21
فتوی نمبر 2181کی تصدیق کریں