کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک شخص نے بیوی کو حالت حمل میں طلاق دے دی ، اس کے بعد بچہ پیدا ہوا، اب بچہ تقریبا دو مہینے کا ہے، شوہر اس کو واپس لینا چاہتا ہے، لیکن بیوی دینے سے انکاری ہے اور کہتی ہے کہ نہیں، بچے کی پرورش میں کروں گی اور یہ میرے پاس ہی رہے گا تو شرعی طور پر رہنمائی فرمائیے کہ بچہ کس کا ہوگا اور کس کی پرورش میں رہے گا؟
واضح رہے کہ شرعی طور پر بچوں کا حق دار باپ ہوا کرتا ہے، البتہ ماں بچے کی سات سال کی عمر تک اور بچیوں کی نو سال کی عمر تک پرورش کا حق رکھتی ہے اور اس دوران بچوں کا خرچہ باپ کے ذمہ لازم ہے، لہٰذا پوچھی گئی صورت میں اگر طلاق کے بعد بچہ پیدا ہوا اور اس وقت اس کی عمر تقریباً دو ماہ ہے تو ماں کو شرعاً یہ حق حاصل ہے کہ وہ بچے کو اپنے پاس سات سال کی عمر تک اور اگر بچی ہے تو نو سال کی عمر تک رکھ کر اس کی پرورش کرے۔ محض اس وجہ سے کہ شوہر بچے کو واپس لینا چاہتا ہے، ماں سے حضانت (یعنی پرورش) کا حق ساقط نہیں ہوگا،البتہ جب لڑکا سات سال اور لڑکی نو سال کی عمر کو پہنچ جائے تو اس کے بعد حضانت کے متعلق شرعی حکم کے مطابق والد کو حق حاصل ہوگا۔
الدر المختار:(3/ 566،ط:دارالفكر) "(والحاضنة) أما، أو غيرها (أحق به) أي بالغلام حتى يستغني عن النساء وقدر بسبع وبه يفتى لأنه الغالب. ولو اختلفا في سنه، فإن أكل وشرب ولبس واستنجى وحده دفع إليه ولو جبرا وإلا لا (والأم والجدة) لأم، أو لأب (أحق بها) بالصغيرة (حتى تحيض) أي تبلغ في ظاهر الرواية. ولو اختلفا في حيضها فالقول للأم بحر بحثا". وأقول: ينبغي أن يحكم سنها ويعمل بالغالب. وعند مالك، حتى يحتلم الغلام، وتتزوج الصغيرة ويدخل بها الزوج عيني (وغيرهما أحق بها حتى تشتهى) وقدر بتسع وبه يفتى. الهندية: (1/ 542،ط:دارالفکر) والأم والجدة أحق بالغلام حتى يستغني وقدر بسبع سنين وقال القدوري حتى يأكل وحده ويشرب وحده ويستنجي وحده وقدره أبو بكر الرازي بتسع سنين والفتوى على الأول والأم والجدة أحق بالجارية حتى تحيض وفي نوادر هشام عن محمد - رحمه الله تعالى - إذا بلغت حد الشهوة فالأب أحق وهذا صحيح هكذا في التبيين.