السلام علیکم!
میں نے ایک بچہ گود لیا ہے، جیسا کہ قران پاک میں فرمایا گیا ہے کہ تم لے پالکوں کو ان کے اصل باپ کے نام سے پکارو، لیکن میں اسے اپنا نام دینا چاہتا ہوں میری نیت خالص ہے میں اسے اپنا حقیقی وارث بنانا چاہتا ہوں مجھے ڈر ہے کہ اگر میں نے اس کے باپ کا نام اگے لایا اور اسے احساس ہو گیا کہ میں اس کا باپ نہیں ہوں تو وہ مجھ سے دور ہو جائے گا اور اس کی تربیت بھی مجھ سے نہیں ہو پائے گی پلیز اگر کوئی گنجائش ہے کہ میں اسے اپنا نام دے سکوں یہ بات اس کے سامنے کبھی نہ آئے کہ میں نے اسے اڈاپٹ کیا ہے۔
میری رہنمائی کریں۔
واضح رہے کہ کسی بچے کو گود لے کر پالنا جائز ہے، لیکن یہ ضروری ہے کہ لے پالک بچے کی نسبت اس کے حقیقی والد کی طرف کی جائے، لہذا ولدیت میں اپنا نام لکھوانا جائز نہیں،البتہ سرپرست کے خانے میں اپنا نام لکھوایا جاسکتا ہے۔
*القرآن الکریم:(الأحزاب:4:33)*
"وَمَا جَعَلَ أَدْعِيَآءَكُمْ أَبْنَآءَكُمْ ذَٰلِكُمْ قَوْلُكُم بِأَفْوَٰهِكُمْ وَٱللَّهُ يَقُولُ ٱلْحَقَّ وَهُوَ يَهْدِي ٱلسَّبِيلَ ٱدْعُوهُمْ لِأٓبَآئِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِندَ ٱللَّهِۚ فَإِن لَّمْ تَعْلَمُوٓاْ ءَابَآءَهُمْ فَإِخْوَٰنُكُمْ فِي ٱلدِّينِ وَمَوَٰلِيكُمۡۚ وَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٞ فِيمَآ أَخْطَأۡتُم بِهِۦ وَلَٰكِن مَّا تَعَمَّدَتْ قُلُوبُكُمۡۚ وَكَانَ ٱللَّهُ غَفُورٗا رَّحِيمًا"
*مشكاة المصابيح:(990/2، رقم الحديث:3314،ط:المكتب الاسلامي)*
وعن سعد بن أبي وقاص وأبي بكرة قالا: قال رسول الله ﷺ: «من ادعى إلى غير أبيه وهو يعلم أنه غير أبيه فالجنة عليه حرام».
*مرقاة المفاتيح:(2170/5،رقم الحديث :3314،ط: دارالفكر)*
- (وعن سعد بن أبي وقاص وأبي بكرة قالا: قال رسول الله ﷺ: (من ادعى): بتشديد الدال أي انتسب (إلى غير أبيه وهو يعلم): أي: والحال أنه يعلم (أنه غير أبيه فالجنة عليه حرام): أي: إن اعتقد حله، أو قبل أن يعذب بقدر ذنبه، أو محمول على الزجر عنه ; لأنه يؤدي إلى فساد عريض، وفي بعض النسخ: فالجنة حرام عليه، وهو مخالف للأصول المعتمدة. (متفق عليه) .