معاشرت زندگی / اولاد کے مسائل و احکام / پرورش و تربیت

طلاق کے بعد بچے کی پرورش ماں پر لازم ہے یا نہیں

فتوی نمبر : 2870 0000-00-00 3 مشاهدة

عضو هيئة كبار العلماء

السؤال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک عورت کو حالتِ حمل میں طلاق دی گئی، عدت کے دوران اس کے ہاں بچے کی ولادت ہوئی اور اب بچہ تقریباً دو ماہ کا ہے، عورت بچے کی پرورش اپنے پاس نہیں رکھنا چاہتی اور اسے اس کے والد (سابق شوہر) کے حوالے کرنا چاہتی ہے، لیکن شوہر بچے کو لینے سے انکار کر رہا ہے۔ اس صورتِ حال میں شرعی رہنمائی فرمائیں کہ بچے کی پرورش کرنا کس کے ذمہ لازم ہے؟ کیا ماں پر بچے کی حضانت لازم ہے، یا باپ اس کا ذمہ دار ہے؟ نیز اگر ماں بچے کو باپ کے حوالے کرنا چاہتی ہو اور باپ لینے سے انکار کر دے تو ایسی صورت میں شرعی حکم کیا ہوگا؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ شرعی طور پر بچوں کی پرورش کا حقدار باپ ہوا کرتا ہے، البتہ ماں بچے کی سات سال کی عمر تک اور بچیوں کی نو سال کی عمر تک پرورش کا حق رکھتی ہے اور اس دوران بچوں کا خرچہ باپ کے ذمہ لازم ہے، لیکن ماں اگر بچے کی پرورش نہیں کرنا چاہتی تو اس پر زبردستی نہیں کی جائے گی، بلکہ بچے کو اس کے قریبی رشتہ دار کے حوالہ کیا جائے گا، تاکہ وہ اس کی پرورش کرے، البتہ اگر بچے کا کوئی ایسا قریبی رشتہ دار موجود نہ ہو جو اس کی نگہداشت کرسکے اور اندیشہ ہو کہ بچہ ضائع یا بے سہارا ہوجائے گا تو ایسی صورت میں بچے کی حفاظت اور مصلحت کے پیشِ نظر ماں کو اس کی پرورش پر مجبور کیا جاسکتا ہے۔

الدر المختار:(3/ 566،ط:دارالفكر) "(والحاضنة) أما، أو غيرها (أحق به) أي بالغلام حتى يستغني عن النساء وقدر بسبع وبه يفتى لأنه الغالب. ولو اختلفا في سنه، فإن أكل وشرب ولبس واستنجى وحده دفع إليه ولو جبرا وإلا لا (والأم والجدة) لأم، أو لأب (أحق بها) بالصغيرة (حتى تحيض) أي تبلغ في ظاهر الرواية. ولو اختلفا في حيضها فالقول للأم بحر بحثا". وأقول: ينبغي أن يحكم سنها ويعمل بالغالب. وعند مالك، حتى يحتلم الغلام، وتتزوج الصغيرة ويدخل بها الزوج عيني (وغيرهما أحق بها حتى تشتهى) وقدر بتسع وبه يفتى. الهداية: (2/ 283دار احياء التراث العربي) "والنفقة على الأب" على ما نذكر "ولا تجبر الأم عليه" لأنها عست تعجز عن الحضانة. العناية: (4/ 368 دار الفكر) والنفقة على الأب) على ما سيجيء (قوله ولا تجبر الأم عليه) أي على أخذ الولد إذا أبت أو لم تطلب لما ذكره، إلا أن لا يكون للولد ذو رحم محرم سوى الأم فتجبر على حضانته لئلا يفوت حق الولد إذ الأجنبية لا شفقة لها عليه.
واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
نومولود بچے کے کان میں اذان اور اقامت کا حکم
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
والدین کا طلاق کے بعد پیدا ہونے والے بچہ کی پرورش سے انکار اور بچہ گود لینے والے کا ولدیت میں اپنا نام لکھوانے کا حکم
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
زوجین کی جدائی کی صورت میں بچے کے پرورش کا حکم
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
طلاق کے بعد بچوں کا حق دار کون ہوگا
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
میاں بیوی میں سے کوئی مسلمان ہو توبچے اس کے تابع ہوں گے
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
بچے کی کان میں اذان دینا
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
طلاق کے بعد اولاد کی پرورش کا حق کس کو ہے
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
طلاق کے بعد بچی کی کفالت کے خرچہ کی مقدار
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
بچوں کے بال لمبے رکھنا جس سے لڑکیوں سے مشابہت ہو
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
بچہ کو گود لینے،ولدیت میں اپنا نام لکھوانے کا حکم
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
طلاق کے بعد اولاد کی پرورش کا حق کس کو ہے
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
طلاق کے بعد بچے کی پرورش ماں پر لازم ہے یا نہیں