محترم مفتی صاحب !
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
میرا بیٹا (جس کی عمر آٹھ سال ہے ) میری پہلی بیوی (جسے میں نے چھ سال پہلے طلاق دی ہے ) کے پاس ہے ، گزشتہ ایک سال میں بیٹے کا نفقہ بھیج رہا ہوں ، لیکن میری سابقہ اہلیہ اسے واپس کررہی ہے ، میں بچے سے ملنے گیا تواسے بھی برا منایا گیا ، چونکہ میرے سسر کا انتقال ہوچکاہے اس لیے میں نے اپنی سابقہ بیوی کے ماموں سے کہا کہ جتنا آپ نے اس بچے پر خرچ کیا ہے وہ میں ادا کردیتا ہوں ، آپ بچہ میرے حوالے کردے ، لیکن انہوں نے دوسال سے اس کا بھی جواب نہیں دیا ۔
اس تناظر میں شریعت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں کہ میں کیا کروں ؟
واضح رہے کہ جب بچے کی عمر سات سال تک پہنچ جائے تو ماں کی پرورش سے نکل کر باپ کی پرورش میں آجاتا ہے ، اس دوران اگر عورت لڑکا حوالے کرنےسے انکار کرے ، تو باپ کو یہ حق حاصل ہے کہ لڑکے کو قانونی طور پر لے کر اپنی پرورش میں رکھے ۔
الشامية : (3/ 566، ط: دارالفكر)
وفي الفتح: ويجبر الأب على أخذ الولد بعد استغنائه عن الأم لأن نفقته وصيانته عليه بالإجماع اهـ.
الهندية: (1/ 542، ط: دارالفكر)
والأم والجدة أحق بالغلام حتى يستغني وقدر بسبع سنين وقال القدوري حتى يأكل وحده ويشرب وحده ويستنجي وحده.
البحر الرائق : (4/ 184، ط: دارالكتاب الاسلامي )
(قوله والأم والجدة أحق بالغلام حتى يستغني وقدر بسبع) ؛ لأنه إذا استغنى يحتاج إلى تأديب والتخلق بآداب الرجال وأخلاقهم والأب أقدر على التأديب والتعنيف.