السلام علیکم! یہ مسئلہ پوچھنا تھا کہ اگر امام صاحب کے کپڑے کالر والے ہوں اور ان کے بازو بھی کالر والے ہوں، جن میں بکرم لگا کر دو بٹن والے بنائے جاتے ہیں تو اگر امام صاحب نماز کے وقت بازو کو کف لگا کر، یعنی پیچھے کی طرف موڑ کر، نماز پڑھائیں تو کیا ایسا کرنا نماز میں مکروہ ہے، سنت کے خلاف ہے، جائز ہے یا نا جائز؟
آستین چڑھا کر نماز پڑھنا مکروہ ہے، اگر جماعت چھوٹنے کے خوف سے کوئی شخص آستین نیچے کیے بغیر نماز میں شامل ہو جائے اور کہنیاں کھلی رہ جائیں تو نماز کے دوران آستین نیچے کرلینی چاہیے، البتہ دونوں آستینیں ایک ہی رکن میں نہ کھینچے، بلکہ مختلف ارکان میں کم سے کم حرکت کے ساتھ نیچے کرے، تاکہ عمل کثیر نہ ہو،تاہم اگر امام ہو تو اسے نماز سے پہلے ہی آستین نیچے کر لینی چاہیے۔ پوچھی گئی صورت میں چونکہ صرف کف موڑ دینا آستین چڑھانا نہیں، اس لیے اس میں کوئی حرج بھی نہیں ۔
الدرالمختار:(640/1،ط: دارالفكر) (و) كره (كفه) أي رفعه ولو لتراب كمشمر كم أو ذيل (وعبثه به) أي بثوبه (وبجسده) للنهي إلا لحاجة. الشامية:(640/1،ط: دارالفكر) (قوله كمشمر كم أو ذيل) أي كما لو دخل في الصلاة وهو مشمر كمه أو ذيله، وأشار بذلك إلى أن الكراهة لا تختص بالكف وهو في الصلاة كما أفاده في شرح المنية، لكن قال في القنية: واختلف فيمن صلى وقد شمر كميه لعمل كان يعمله قبل الصلاة أو هيئته ذلك اهـ ومثله ما لو شمر للوضوء ثم عجل لإدراك الركعة مع الإمام.