مفتی صاحب! میں ایک دوست کے ساتھ کاروبار شروع کرنا چاہتا ہوں اور اس میں 50، 50 فیصد سرمایہ کاری ہم دونوں کی ہوگی اور منافہ بھی 50، 50 فیصد کے ساتھ تقسیم ہوگا ، کاروبار میرا دوست کرے گا تو کیا اس طرح کا کاروبار اور شراکت داری کرنا درست ہے؟
واضح رہے کہ اگر دو افراد کسی کاروبار میں برابر یعنی 50،50 فیصد سرمایہ لگائیں اور باہمی رضامندی سے منافع بھی 50،50 فیصد تقسیم کرنے پر اتفاق کریں، جبکہ ان میں سے صرف ایک شریک کاروبار کی نگرانی اور انتظام سنبھالے تو شرعاً ایسی شرکت جائز اور درست ہے، البتہ اگر کاروبار میں کسی قسم کا نقصان ہو جائے تو وہ دونوں شریک اپنے اپنے سرمایہ کے تناسب سے برداشت کریں گے، یعنی اس صورت میں بھی دونوں پر 50،50 فیصد نقصان لازم ہوگا، لہٰذا سوال میں ذکر کردہ صورت میں اس طریقۂ کار کے مطابق شراکت کرنا شرعاً درست ہے۔
الشامية: (5/ 648،ط:دارالفكر) (بخلاف الشركة) ؛ لأن العمل فيهما من الجانبين (وكون الربح بينهما شائعا) فلو عين قدرا فسدت (وكون نصيب كل منهما معلوما) عند العقد. بدائع الصنائع: (6/ 62،ط:دار الكتب العلمية) إذا عرف هذا فنقول: إذا شرطا الربح على قدر المالين متساويا أو متفاضلا، فلا شك أنه يجوز ويكون الربح بينهما على الشرط سواء شرطا العمل عليهما أو على أحدهما والوضيعة على قدر المالين متساويا ومتفاضلا؛ لأن الوضيعة اسم لجزء هالك من المال فيتقدر بقدر المال.