السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ مفتی صاحب! ہم فوجی جو بارڈر پر ہوتے ہیں وہ نماز مکمل پڑھیں گے یا قصر کریں گے؟
واضح رہے کہ شرعی سفرِ مسافت کلو میٹر کے حساب سے سوا ستتر ( 77.24) کلو میٹر ہے، لہذا اگر وطن یا مرکز کی حدود سے بارڈر تک سوا ستتر ( 77.24) کلومیٹر یا اس سے زیادہ فاصلہ ہو تو وہاں فوجی قصر نماز ادا کریں گے اور اگر بارڈر تک کا فاصلہ شرعی مسافت سے کم ہو تو نماز پوری ادا کی جائے گی۔ اگر بارڈر پر فوجی یا دیگر اہلکار اقامت کی نیت بھی کریں، لیکن وہاں مستقل قیام اور وطن بننے کی شرعی شرائط موجود نہ ہوں تو محض اقامت کی نیت سے قصر کا حکم ختم نہیں ہوگا، نیز بارڈر پر جمعہ اور عیدین کی نماز کے لیے شرعی شرائط پوری نہ ہونے کی وجہ سے وہاں جمعہ اور عیدین کے بجائے ظہر کی نماز ادا کی جائے گی۔
الدرالمختارمع رد المحتار : (2/ 125، ط: دارالفكر) (فيقصر إن نوى) الإقامة (في أقل منه) أي في نصف شهر (أو) نوى (فيه )قوله في أقل منه) ظاهره ولو بساعة واحدة وهذا شروع في محترز ما تقدم . الهندية: (1/ 139، ط:دارالفكر) وإن نوى الإقامة أقل من خمسة عشر يوما قصر، هكذا في الهداية. البحر الرائق : (2/ 143، ط: دارالكتاب الاسلامي ) (قوله وقصر إن نوى أقل منها أو لم ينو وبقي سنين) أي أقل من نصف شهر، وقد قدمنا تقريره. أيضاً : (2/ 142، ط: دارالكتاب الاسلامي ) وقيد بالبلد والقربة؛ لأن نية الإقامة لا تصح في غيرهما فلا تصح في مفازة، ولا جزيرة ولا بحر، ولا سفينة، وفي الخانية والظهيرية والخلاصة ثم نية الإقامة لا تصح إلا في موضع الإقامة ممن يتمكن من الإقامة وموضع الإقامة العمران والبيوت المتخذة من الحجر والمدر والخشب لا الخيام والأخبية والوبر اهـ.