السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ جی! ایک مسئلہ پوچھنا تھا حضرت ! جب نماز میں کچھ رکعتیں چلی جائیں، اب اگر ایک شخص جماعت میں شامل ہو جائے اور امام التحیات میں ہو تو بعض لوگ نیت باندھ کر 2، 3 سیکنڈ ہاتھ باندھ کر، پھر التحیات میں چلے جاتے ہیں اور بعض بغیر ہاتھ باندھے چلے جاتے ہیں، اس مسئلہ کے بارے میں تفصیل سے بتائیں۔
واضح رہے کہ جو شخص ایسے وقت میں جماعت میں حاضر ہوا، جب امام التحیات کی حالت میں تھا تو اس کے لیے جماعت میں شریک ہونے کا سنت طریقہ یہ ہے کہ کھڑا ہو کر، تکبیر تحریمہ کہہ کر نماز میں شریک ہو جائے اور ہاتھ باندھ لے، پھر دوسری تکبیر کہہ کر التحیات میں چلا جائے، تاہم اگر کوئی تکبیرِ تحریمہ کہہ کر ایک دفعہ سبحان اللّہ کہنے کی مقدار کھڑا رہا اور ہاتھ باندھے بغیر التحیات میں شریک ہو گیا تو اس کا قیام ہوگیا، یعنی اس سے قیام کی فرضیت ادا ہو گئی اور نماز درست ہوگئی۔
الشامیة: (1/ 445،ط:دارالفکر) "فلو كبر قائمًا فركع ولم يقف صح؛ لأن ما أتى به القيام إلى أن يبلغ الركوع يكفيه، قنية. (قوله: فركع) أي وقرأ في هويه قدر الفرض أو كان أخرس أو مقتديًا أو أخر القراءة. حاشية الطحطاوي: (455،ط:دارالکتب العلمیة) "ومن أدرك إمامه راكعًا فكبر ووقف حتى رفع الإمام رأسه" من الركوع أو لم يقف بل انحط بمجرد إحرامه فرفع الإمام رأسه قبل ركوع المؤتم "لم يدرك الركعة" كما ورد عن ابن عمر رضي الله عنهما. قوله: "فرفع الإمام رأسه" مراده أنه رفع قبل أن يشاركه المؤتم في جزء من الركوع وإلا فظاهر التعبير بالفاء أن الرفع تحقق بعد الإنحطاط وحينئذ تحقق المشاركة فتكون الصلاة صحيحة قوله: "كما ورد عن ابن عمر رضي الله عنهما" ولفظه إذا أدركت الإمام راكعا فركعت قبل أن يرفع رأسه فقد أدركت الركعة وإن رفع قبل أن تركع فقد فاتتك الركعة".