حضرت مفتی صاحب ! مسجد میی جماعت ثانیہ کرنا مکروہ ہے، لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ تبلیغی مراکز میی ایک جماعت کے بعد دوسری جماعت پھر تیسری جماعت یعنی جو بھی آتا ہے وہ اپنی جماعت کرواتا ہے۔ اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟
ایسی مسجد جہاں امام و مؤذن باقاعدہ مقرر ہوں اور پانچ وقت کی نماز باجماعت ادا کی جاتی ہو، وہاں پہلی جماعت کے بعد دوسری جماعت (جماعتِ ثانیہ) کا اہتمام مکروہِ تحریمی ہے، کیونکہ اس سے نظم میں خلل آتا ہے، البتہ مسافر حضرات کے لیے یا ایسی مسجد جہاں امام و مؤذن مستقل نہ ہوں، یا باقاعدہ اذان و اقامت نہ دی گئی ہو، یا وہاں لوگ انفرادی نماز پڑھتے ہوں، یا وہ راستے کی مسجد ہو تو ان تمام صورتوں میں دوسری جماعت کرانا جائز ہے ۔ پوچھی گئی صورت میں یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ تبلیغی مراکز میں مسجد کی حدود متعین ہوتی ہیں، جو دوسری یا متعدد جماعتیں مسجد کی مقررہ جماعت کے بعد ادا کی جاتی ہیں، وہ عموماً مسجد کی حدود سے باہر منعقد ہوتی ہیں، اس لیے اس میں شرعاً کوئی حرج نہیں۔ مزید یہ کہ تبلیغی مراکز، مثلاً رائیونڈ مرکز میں آنے والے افراد عموماً مسافر ہوتے ہیں، کیونکہ ان کا قیام پندرہ دن سے کم ہوتا ہے، اس لیے اگر وہ حدود میں مختصر لوگوں کے ساتھ جماعت سے نماز پڑھیں تو اس کی بھی گنجائش ہے ۔
بذل المجهود:(435/3،ط:مركز الشيخ أبي الحسن الندوي)* ولفظه: ويكره تكرار الجماعة بأذان وإقامة في مسجد محلة لا في مسجد طريق، أو مسجد لا إمام له ولا مؤذن، انتهى.قال الشامي في «حاشيته» ويكره، أي تحريمًا لقول «الكافي»: لا يجوز، و«المجمع»: لا يباح، و«شرح الجامع الصغير»: إنه بدعة، قوله: «بأذان وإقامة»، عبارته في «الخزائن» أجمع مما هاهنا، ونَصُّها: يكره تكرار الجماعة في مسجد محلة بأذان وإقامة، إلَّا إذا صلَّى بهما فيه أولًا غيرُ أهله. *الشامية:(552/1،ط: دارالفكر)* (قوله ويكره) أي تحريما لقول الكافي لا يجوز والمجمع لا يباح وشرح الجامع الصغير إنه بدعة كما في رسالة السندي (قوله بأذان وإقامة إلخ) عبارته في الخزائن: أجمع مما هنا ونصها: يكره تكرار الجماعة في مسجد محلة.....بأذان وإقامة، إلا إذا صلى بهما فيه أولا غير أهله، لو أهله لكن بمخافتة الأذان، ولو كرر أهله بدونهما أو كان مسجد طريق جاز إجماعا؛ كما في مسجد ليس له إمام ولا مؤذن ويصلي الناس فيه فوجا فوجا، فإن الأفضل أن يصلي كل فريق بأذان وإقامة على حدة. *الفقه الاسلامي وادلته:(1182/2،ط:دار الفكر)* قالوا: يكره تكرار الجماعة بأذان وإقامة في مسجد محلة، إلا إذا صلى بهما فيه أولا غير أهله، أو أهله لكن بمخافته الأذان، أو كرر أهله الجماعة بدون الأذان والإقامة، أو كان مسجد طريق، أو مسجدا لا إمام له ولا مؤذن، ويصلي الناس فيه فوجا فوجا، والأفضل أن يصلي كل فريق بأذان وإقامة على حدة.