السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ مفتیان کرام! میں ایک ادارے کا ملازم ہوں، جہاں حاضری کے لیے بائیو میٹرک مشین ہے، بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ ہم حاضری لگانا بھول جاتے ہیں تو کیا اس کی وجہ سے تنخواہ کاٹنا صحیح ہے؟
اگر کوئی ملازم مقررہ وقت پر ڈیوٹی پر حاضر ہو، اپنی ذمہ داریاں بھی پوری کرے، لیکن محض بھول کی وجہ سے بائیو میٹرک حاضری درج نہ کرسکے تو صرف اسی بنیاد پر اسے غیر حاضر قرار دے کر اس کی تنخواہ کاٹنا شرعاً درست نہیں، کیونکہ انسان بعض دفعہ کوتاہی کیے بغیر بھی بھول سکتا ہے، البتہ ادارہ نظم و ضبط کے لیے یہ ضابطہ بنا سکتا ہے کہ بار بار بلاعذر حاضری درج نہ کرنے والے ملازم کو تنبیہ کرے یا بعض مراعات، جیسے بونس یا اضافی الاؤنس، سے محروم کرے، لیکن محض حاضری درج نہ ہونے کی وجہ سے کام کرنے کے باوجود اس کی تنخواہ کاٹنا جائز نہیں۔
صحيح البخاري:(82/3،رقم الحديث:2227،ط:دار طوق النجاة)* حدثني بشر بن مرحوم: حدثنا يحيى بن سليم، عن إسماعيل بن أمية، عن سعيد بن أبي سعيد، عن أبي هريرة رضي الله عنه، عن النبي ﷺ قال: قال الله: «ثلاثة أنا خصمهم يوم القيامة: رجل أعطى بي ثم غدر، ورجل باع حرا فأكل ثمنه، ورجل استأجر أجيرا فاستوفى منه ولم يعط أجره.» *سنن ابن ماجه:(510/3،رقم الحديث:2443،ط:دار الرسالة العالمية)* حدثنا العباس بن الوليد الدمشقي، حدثنا وهب بن سعيد بن عطية السلمي، حدثنا عبد الرحمن بن زيد بن أسلم، عن أبيه عن عبد الله بن عمر، قال: قال رسول الله - ﷺ -: «أعطوا الأجير أجره قبل أن يجف عرقه» *الشامية:(69/6،ط: دارالفكر)* والثاني) وهو الأجير (الخاص) ويسمى أجير وحد (وهو من يعمل لواحد عملا مؤقتا بالتخصيص ويستحق الأجر بتسليم نفسه في المدة وإن لم يعمل كمن استؤجر شهرا للخدمة أو) شهرا (لرعي الغنم) المسمى بأجر مسمى.