مفتی صاحب! ہم نے فارم ہاؤس بک کرایا تھا، لیکن کسی وجہ سے بکنگ منسوخ ہوگئی، اسے ہم نے ایڈوانس پندرہ ہزار روپے دیے تھے، اب وہ واپس نہیں کررہا۔ کیا ایڈوانس بکنگ منسوخ ہونے پر رقم ضبط کرنا جائز ہے؟
فارم ہاؤس کی بکنگ کے وقت بطور ایڈوانس یا بطور سیکیورٹی لی جانے والی رقم لینا شرعاً جائز ہے، تاہم اگر بکنگ منسوخ ہو جائے تو فارم ہاؤس کے مالک کے لیے پوری ایڈوانس رقم اپنے پاس رکھ لینا جائز نہیں، کیونکہ یہ رقم امانت یا قیمت کا حصہ ہوتی ہے اور منسوخ ہونے کی صورت میں اسے واپس کرنا ضروری ہے۔ البتہ اگر بکنگ منسوخ ہونے کی وجہ سے فارم ہاؤس کے مالک کو واقعی کوئی مالی نقصان یا ضروری اخراجات برداشت کرنا پڑے ہوں تو صرف اسی حقیقی نقصان کی حد تک رقم کاٹنے کی گنجائش ہے، اس سے زیادہ ایڈوانس ضبط کرنا شرعاً درست نہیں۔
موطأ مالك : (رقم الحدیث:2470،ط: مؤسسة الرسالة)* عن عمرو بن شعيب، عن أبيه، عن جده، أنه قال: نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن بيع العربان. *حجة الله البالغة: (2/ 167،ط:دارالجیل)* وَنهى عَن بيع العربان أَن يقدم إِلَيْهِ شَيْء من الثّمن، فَإِن اشْترى حسب من الثّمن، وَإِلَّا فَهُوَ لَهُ مجَّانا وَفِيه معنى الميسر. *بحوث في قضايا فقهية معاصرة: (109،ط:دارالقلم)* والخلو عبارة عن حق القرار في دار أو حانوت، فربما يؤجر صاحب البناء بناءه لمدة طويلة، فيأخذ من المستأجر مبلغا مقطوعا عند عقد الإجارة زيادة على أجرته الشهرية أو السنوية، وبدفع هذا المبلغ يستحق المستأجر أن يبقى على إجارته مدة طويلة. ثم ربما ينقل المستأجر حقه هذا إلى غيره، فيأخذ منه مبلغا يستحق به عقد الإجارة مع صاحب البناء، وإذا أراد المالك استرداد بنائه من المستأجر لزمه أن يؤدي إليه مبلغا يتراضى عليه الطرفان. وإن هذه المبالغ كلها تسمى "خلو" أو "جلسة" في شتى البلاد العربية، و"بكرى" و"سلامي" في ديارنا. وأصل الحكم في هذا الخلو عدم الجواز، لكونه رشوة أو عوضا عن حق مجرد. ولكن أفتى بعض الفقهاء بجوازه.