مفتی صاحب ! کیا نابالغ بچے کو تحفے میں ملی ہوئی چیز والدین استعمال کر سکتے ہیں؟
جو چیز نابالغ بچے کو تحفے یا ہدیے میں مل جائے، خواہ وہ کھلونے، کپڑے، رقم، زیور یا کوئی اور سامان ہو، وہ شرعاً اسی بچے کی ملکیت ہوتی ہے، اس لیے والدین یا کوئی دوسرا شخص اس چیز کو اپنے استعمال میں نہیں لا سکتا اور نہ ہی کسی دوسرے کو دے سکتا ہے، البتہ اگر وہ چیز خراب ہونے والی ہو یا بچے کے کام نہ آ سکتی ہو تو والدین بچے کے مفاد کو سامنے رکھتے ہوئے اس چیز کو لے کر اس کے بدلے اتنی ہی قیمت یا اس کے مساوی کوئی دوسری ضروری چیز بچے کو دے سکتے ہیں۔
*الشامية:(689/5،ط: دارالفكر)* اتخذ لولده ثيابا ليس له أن يدفعها إلى غيره إلا إذا بين وقت الاتخاذ أنها عارية، وكذا لو اتخذ لتلميذه ثيابا فأبق التلميذ، فأراد أن يدفعها إلى غيره بزازية كذا في الهامش . *أيضاً:(696/5،ط: دارالفكر)* وفيها: لا يجوز أن يهب شيئا من مال طفله ولو بعوض لأنها تبرع ابتداء، وفيها ويبيع القاضي ما وهب للصغير حتى لا يرجع الواهب في هبته. *الهندية:(562/1،ط: دارالفكر)* وإن كان للصغير عقار، أو أردية، أو ثياب، واحتيج إلى ذلك للنفقة كان للأب أن يبيع ذلك كله وينفق عليه كذا في الذخيرة. *الموسوعة الفقهية الكويتية:(23/27،ط:دارالسلاسل)* الولاية على المال: ٢١ - يقوم الولي بمقتضاها بالإشراف على شؤون الصغير المالية: من إنفاق، وإبرام عقود، والعمل على حفظ ماله واستثماره وتنميته وللفقهاء خلاف وتفصيل في تقسيم الأولياء ومراتبهم، ينظر في مصطلح: (ولاية) .