مفتی صاحب ایک مسئلہ کا حل مطلوب ہے ۔ تفصیل تنازع یہ ہے کہ کرایہ دار نے مکان لیتے وقت شناختی کارڈ کی کاپی مالک مکان کو دی کہ کرایہ نامہ بنوا دے، مگر مالک مکان نے کرایہ نامہ باہم اعتماد اور تعلق کی وجہ سے ضروری نہیں سمجھا اور کرایہ نامہ نہیں بنایا، یہاں تک کہ چھ سال گزر گئے، سات ماہ قبل پولیس نے رات کو چھاپہ مارا اور کرایہ دار کو اس وجہ سے حراست میں لیا کہ کرایہ نامہ موجود نہیں تھا اور FIR درج کردی، بعد میں اگرچہ ماک مکان نے تھانے جا کر کرایہ نامہ پیش کیا، مگر کچھ فائدہ نہ ہوا اور یہ مقدمہ سات ماہ تک چلا، اب معلوم یہ کرنا ہے کہ اس مقدمہ پر جو اخراجات آئے ہیں اس کا ذمہ دار کون ہے کرایہ دار یا ملک مکان؟ قانون کے تحت کرایہ نامہ بنانا جمع کرنا کس کی زمہ داری ہے؟
واضح رہے کہ کرایہ نامہ تیار کرنا اور متعلقہ سرکاری تقاضوں کو پورا کرنا ایک قانونی معاملہ ہے اور قانون کے مطابق کرایہ نامہ تیار کروا کر جمع کرانا مالکِ مکان کی ذمہ داری ہے۔ شرعی اعتبار سے بھی یہ اصول مسلم ہے کہ جس شخص کی کوتاہی، غفلت یا لاپرواہی کی وجہ سے دوسرے کو مالی نقصان پہنچے، اس نقصان کی ذمہ داری اسی شخص پر عائد ہوتی ہے، لہٰذا اگر کرایہ دار نے مکان حاصل کرتے وقت اپنا شناختی کارڈ اور دیگر مطلوبہ دستاویزات مالکِ مکان کے حوالے کر دی تھیں اور کرایہ نامہ تیار کروانے یا قانونی کارروائی مکمل کرنے میں اس کی جانب سے کوئی کوتاہی نہیں تھی، بلکہ مالکِ مکان نے باہمی اعتماد کی بنا پر کرایہ نامہ بنوانا یا متعلقہ اداروں میں جمع کروانا ضروری نہ سمجھا تو بعد میں اسی غفلت کے نتیجے میں پیدا ہونے والے قانونی مسائل اور ان کی وجہ سے آنے والے اخراجات کی ذمہ داری مالکِ مکان پر عائد ہوگی۔
*درر الحکام:(236/2،ط:دارالجليل)* القاعدة الثانية، إذا هلكت الأمانة بسبب صنع الأمين وفعله أو تقصيره في أمر المحافظة أو من جهة مخالفة صاحب المال المعتبر شرعا وغير الجائز مخالفته يكون الأمين ضامنا. ويتفرع على هذه القاعدة أيضا مسائل من أبواب الفقه المتفرقة. فلنذكر بعضها: ١ - البيوع: إذا تعدى المشتري على المبيع في البيع بالوفاء وهلك يضمن راجع المادة (١ ٤)