حضرت مفتی صاحب!
یہ دریافت کرنا تھا کہ آج کل حکومت کی جانب سے جو وزیراعظم ہاؤسنگ اسکیم جاری کی گئی ہے، جس میں کہا جاتا ہے کہ ایک مخصوص رقم بطور قرض دی جاتی ہے، اور بعد میں اس پر تقریباً پانچ فیصد زائد رقم وصول کی جاتی ہے، تو کیا یہ اضافہ سود کے زمرے میں آتا ہے یا نہیں؟
بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ سود ہے، جبکہ بعض حضرات کا کہنا ہے کہ جس طرح کسی چیز کو قسطوں پر مہنگا فروخت کیا جاتا ہے اور وہ جائز ہوتا ہے، اسی طرح یہ معاملہ بھی جائز ہے۔ اس بارے میں شرعی رہنمائی فرمادیں کہ ایسی اسکیم میں شامل ہونا اور اضافی رقم ادا کرنا جائز ہے یا ناجائز؟
واضح رہے کہ "وزیراعظم قرضہ سکیم" کے تحت ملنے والی رقم قرضہ دینے کے بعد واپسی پر چونکہ اضافی رقم دینی پڑتی ہے جو کہ صراحتاً سود ہے، لہذا مذکورہ "وزیر اعظم قرضہ سکیم" کے تحت ملنے والی رقم لینا شرعا ناجائز ہے۔
*القرآن الکریم:(البقرة2: 275-280]*
﴿قَالُوٓاْ إِنَّمَا ٱلۡبَيۡعُ مِثۡلُ ٱلرِّبَوٰاْۗ وَأَحَلَّ ٱللَّهُ ٱلۡبَيۡعَ وَحَرَّمَ ٱلرِّبَوٰاْۚ فَمَن جَآءَهُۥ مَوۡعِظَةٞ مِّن رَّبِّهِۦ فَٱنتَهَىٰ فَلَهُۥ مَا سَلَفَ وَأَمۡرُهُۥٓ إِلَى ٱللَّهِۖ وَمَنۡ عَادَ فَأُوْلَٰٓئِكَ أَصۡحَٰبُ ٱلنَّارِۖ هُمۡ فِيهَا خَٰلِدُونَ ٢٧٥ يَمۡحَقُ ٱللَّهُ ٱلرِّبَوٰاْ وَيُرۡبِي ٱلصَّدَقَٰتِۗ وَٱللَّهُ لَا يُحِبُّ كُلَّ كَفَّارٍ أَثِيمٍ ٢٧٦ إِنَّ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّٰلِحَٰتِ وَأَقَامُواْ ٱلصَّلَوٰةَ وَءَاتَوُاْ ٱلزَّكَوٰةَ لَهُمۡ أَجۡرُهُمۡ عِندَ رَبِّهِمۡ وَلَا خَوۡفٌ عَلَيۡهِمۡ وَلَا هُمۡ يَحۡزَنُونَ ٢٧٧ يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ ٱتَّقُواْ ٱللَّهَ وَذَرُواْ مَا بَقِيَ مِنَ ٱلرِّبَوٰٓاْ إِن كُنتُم مُّؤۡمِنِينَ ٢٧٨ فَإِن لَّمۡ تَفۡعَلُواْ فَأۡذَنُواْ بِحَرۡبٖ مِّنَ ٱللَّهِ وَرَسُولِهِۦۖ وَإِن تُبۡتُمۡ فَلَكُمۡ رُءُوسُ أَمۡوَٰلِكُمۡ لَا تَظۡلِمُونَ وَلَا تُظۡلَمُونَ ٢٧٩ وَإِن كَانَ ذُو عُسۡرَةٖ فَنَظِرَةٌ إِلَىٰ مَيۡسَرَةٖۚ وَأَن تَصَدَّقُواْ خَيۡرٞ لَّكُمۡ إِن كُنتُمۡ تَعۡلَمُونَ ٢٨٠﴾
*الشامية: (5/ 166،ط:دارالفكر)*
وفي الأشباه كل قرض جر نفعا حرام.