احکام حج

حج کی قسمیں اور افضل قسم

فتوی نمبر :
2506
عبادات / حج و عمرہ / احکام حج

حج کی قسمیں اور افضل قسم

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ مفتی صاحب
یہ پوچھنا ہے، کہ حج کے لیے اگر کوئی شخص جا رہا ہے، وہ یہ پوچھنا چاہتا ہے کہ حج میں جیسے حج تمتع ہے، اور حج قران ہے، اسی طرح حج افراد ، ان میں سے سب سے افضل کون حج ہے اور ہم پاکستان سے جا رہے ہیں تو ہمارے لیے سب سے افضل اور اسی طرح اسان کونسا ہے جس میں پریشانی نہ ہو اور اس میں جو قربانی کا حکم ( دم شکر) ہے اس سے بھی بچنا چاہ رہا ہے تو اس میں وہ مشورہ بھی چارہ ہے اور اسی طرح جو صحیح طریقے ہے وہ بھی معلوم کرنا چاہ رہے ہیں کہ اس میں کیا کرے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

حج کی تین قسمیں ہیں ۔
(1)حجِ افراد: اس میں حج کے دنوں میں صرف حج کے لیے احرام باندھا جاتا ہے، عمرہ نہیں کیا جاتا۔ پاکستان والے عموماً یہ حج نہیں کرتے ،اس قسم میں قربانی( دم شکر) واجب نہیں ہوتی۔
(2)حجِ تمتع: ایک ہی سفر میں پہلے عمرہ کا احرام باندھا جاتا ہے،طواف اور سعی کے بعد حلق یا قصر کر کے احرام کھول دیا جاتا ہے۔ پھر حج کے ایام میں دوبارہ حج کا احرام باندھا جاتا ہے، چونکہ ایک ہی سفر میں دو عبادتوں (عمرہ اور حج) کو ادا کیا جاتا ہے، اس لیے اسے تمتع کہتے ہیں۔ اس پر شکرانے کی قربانی واجب ہوتی ہے، پاکستان والے عموماً حج تمتع ہی کرتے ہیں ۔
(3)حجِ قران:ایک ہی وقت میں حج اور عمرہ دونوں کا احرام باندھا جاتا ہے، پہلے عمرہ کے ارکان ادا کیے جاتے ہیں، اس کے بعد آدمی احرام کی میں رہتا ہے، پھر حج کے ارکان ادا کرنے کے بعد آخر میں حلق یا قصر کر کے احرام کھولا جاتا ہے، اس میں بھی قربانی واجب ہوتی ہے،

حنفیہ کے نزدیک اصل میں حجِ قران افضل ہے،اس کے بعد حج تمتع کا درجہ ہے،اور اس کے بعد حج افراد کا۔ لیکن چونکہ حج قران میں احرام کی مدت زیادہ ہوتی ہے، اور اس کی پابندیوں پر قائم رہنا عام لوگوں کے لیے مشکل ہوتا ہے، اس لیے بعد کے فقہاء نے حجِ تمتع کو افضل قرار دیا، تاکہ لوگ آسانی سے حج ادا کر سکیں، اور غلطیوں سے بچ سکیں،
حجِ تمتع یا قران کرنے والے پر شکرانے کے طور پر دم (قربانی) واجب ہوتا ہے، لیکن اگر کسی کے پاس مالی استطاعت نہ ہو روزوں کا بدل مقرر کیا گیا ہے،تاہم یہ رخصت دائمی نہیں،لہذا اگر کوئی شخص عدمِ استطاعت کی بنا پر روزے رکھنا شروع کردے، پھر ایامِ نحر کے دوران سورج غروب ہونے سے پہلے اسے اتنی رقم میسر آجائے کہ وہ دم ادا کرسکے،تو اس پر جانور ذبح کرنا ہی واجب ہوگا۔
البتہ اگر ایامِ نحر گزر جائیں، یا انہی دنوں میں حلق یا قصر کے بعد اسے استطاعت حاصل ہو، توایسی صورت میں قربانی لازم نہیں رہے گی، بلکہ پہلے سے مقرر شدہ روزوں کو مکمل کرنا ہی کافی ہوگا۔
لہٰذا پوچھی گئی صورت میں آپ چونکہ پاکستان سے جا رہے ہیں تو آپ بھی حج تمتع کریں گے، لہذا آپ پر بھی قربانی لازم ہوگی شکرانے کی ، لیکن اگر آپ کے پاس صرف اتنا مال ہے کہ اس سے حج ہوجائے گا اور دم شکر کے پیسے آپ کے پاس نہیں ہیں، تو آپ دس دن کے روزے رکھ سکتے ہیں، لیکن اگر آپ کے پاس قربانی کے پیسے ہیں تو قربانی ہی لازم ہے۔

حوالہ جات

*بداية المبتدي:(48/1،ط:مكتبة ومطبعة محمد علي صبح)*
القران أفضل من التمتع والإفراد وصفة القران أن يهل بالعمرة والحج معا من الميقات ويقول عقيب الصلاة اللهم إني أريد الحج والعمرة فيسرهما لي وتقبلهما مني...

*الشامية:(5152،ط: دارالفكر)*
(قوله لأنه مفرد) تعليل لما استفيد من التخيير بقوله إن شاء والذبح له أفضل، ويجب على القارن والمتمتع ط، وأما الأضحية فإن كان مسافرا فلا يجب عليه وإلا كالمكي فتجب كما في البحر.

*ایضًا:(529/2،ط: دارالفكر)*
اختار العلامة الشيخ عبد الرحمن العمادي في منسكه التمتع لأنه أفضل من الإفراد وأسهل من القران، لما على القارن من المشقة في أداء النسكين، لما يلزمه بالجناية من الدمين.


*ایضًا: (534/2،ط: دار الفکر)*
(قوله ولو قدر عليه) أي على الدم، وقوله بطل صومه: أي حكم صومه وهو خلفيته عن الهدي في إباحة التحلل بالحلق والتقصير في وقته فإن الهدي أصل في ذلك لعدم جواز التحلل قبله لوجوب الترتيب بينهما كما مر، والصوم: أي الثلاثة فقط خلف عن الهدي في ذلك عند العجز عنه، فصار المقصود بالصوم إباحة التحلل بالحلق أو التقصير، فإذا قدر على الأصل قبل التحلل وجب الأصل لقدرته عليه قبل حصول المقصود بخلفه كما لو قدر المتيمم على الماء في الوقت قبل صلاته بالتيمم، بخلاف ما لو قدر على الهدي بعد الحلق أو قبله لكن بعد أيام النحر

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
2
فتوی نمبر 2506کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --