احرام کے مسائل

احرام کی حالت میں معذور کے لیے جوتے پہننے کا حکم

فتوی نمبر :
2405
عبادات / حج و عمرہ / احرام کے مسائل

احرام کی حالت میں معذور کے لیے جوتے پہننے کا حکم

مفتی صاحب !
احرام کی حالت میں اگر کسی شخص کو بیماری یا تکلیف کی وجہ سے جوتے پہننے کی ضرورت پیش آئے تو اس کا شرعی حکم کیا ہے؟
کیا اس صورت میں کوئی فدیہ دینا لازم ہوگا؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ مردوں کے لیے حالت احرام میں ایسے جوتے پہننا جائز نہیں جن میں دونوں ٹخنے، قدم کے درمیان ابھری ہوئی ہڈی اور ایڑھی سمیت پاؤں کے اوپر کا حصہ ڈھک جائے۔
ایسے جوتے پہننا جس میں دونوں ٹخنے ،قدم کے بیچ میں ابھری ہوئی ہڈی(جہاں عموما بال اگتے ہیں اور جوتے کے تسمے باندھے جاتے ہیں )، ایڑھی اور ایڑھی سے اوپر پاؤں کا حصہ کھلا ہو جائز ہے، البتہ اگر کسی عذر کی وجہ سے ایسے جوتے پہننے کی ضرورت پیش آئے کہ جن میں دونوں ٹخنے، قدم کے درمیان ابھری ہوئی ہڈی اور ایڑھی سمیت پاؤں کے اوپر کا حصہ ڈھک جائے تو اس کی گنجائش ہے، لیکن اس صورت میں اگر ایک دن یا رات یا اس سے زیادہ عرصہ ایسے جوتے پہنے رکھے تو اس پر دم لازم ہوگا اور اگر ایک دن سے کم عرصہ پہنے تو اس پر صدقہ لازم ہوگاـ

حوالہ جات

*صحيح البخاري :(رقم الحديث:366،ط:دارطوق النجاة)*
عن ابن عمر قال: «سأل رجل رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: ‌ما ‌يلبس ‌المحرم؟ فقال: لا يلبس القميص، ولا السراويل، ولا البرنس، ولا ثوبا مسه الزعفران، ولا ورس، فمن لم يجد النعلين فليلبس الخفين، وليقطعهما حتى يكونا أسفل من الكعبين.

*الشامية: (2/ 490،ط:دارالفكر)*
(‌وخفين ‌إلا ‌أن ‌لا ‌يجد ‌نعلين ‌فيقطعهما أسفل من الكعبين) عند معقد الشراك»
قوله فيقطعهما) أما لو لبسهما قبل القطع يوما فعليه دم وفي أقل صدقة لباب (قوله أسفل من الكعبين) الذي في الحديث وليقطعهما حتى يكونا أسفل من الكعبين، وهو أفصح مما هنا ابن كمال والمراد قطعهما بحيث يصير الكعبان وما فوقهما من الساق مكشوفا لا قطع موضع الكعبين فقط..

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
3
فتوی نمبر 2405کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --