احرام کے مسائل

عمرہ میں حلق سے پہلے احرام کھولنے کا حکم

فتوی نمبر :
1439
عبادات / حج و عمرہ / احرام کے مسائل

عمرہ میں حلق سے پہلے احرام کھولنے کا حکم

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کسی نے تین عمرے کیے، دو عمروں میں حلق کیا، لیکن تیسرے عمرے میں حلق نہیں کیا ،حلق سے پہلے احرام کھول دیا تو کیا اس پر دم لازم ہوگا؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

عمرہ کے تمام ارکان ادا کرنے کے بعد احرام کی پابندیوں سے نکلنے کے لیے حلق (سر کے بال منڈوانا) یا قصر (بال کتروانا) ضروری ہے، اگر کوئی شخص حلق یا قصر کیے بغیر صرف احرام کی چادریں اتار دے یا سلے ہوئے کپڑے پہن لے تو یہ شرعاً احرام کھولنا شمار نہیں ہوتا، چونکہ اس نے احرام کی حالت میں ممنوع کام کیے ہیں، اس لیے اس پر دم (قربانی) لازم ہو گا، یعنی حدودِ حرم میں ایک بکرا، بکری یا دنبہ ذبح کرنا پڑے گا۔
پوچھی گئی صورت میں اگر سائل نے ابھی تک حلق یا قصر نہیں کیا تو وہ اب بھی احرام کی حالت میں ہے، لہٰذا اسے چاہیے کہ مکہ مکرمہ جا کر حدودِ حرم کے اندر حلق یا قصر کرے اور اگر وہ حدودِ حرم سے باہر حلق یا قصر کرتا ہے تو اس پر دو دم لازم ہوں گے۔
نیز اگر حلق یا قصر سے پہلے یعنی حالتِ احرام میں ممنوعاتِ احرام(مثلاًسلے ہوئے کپڑے پہننا یا خوشبو وغیرہ لگانا یا دیگر خلافِ احرام امور) کا ارتکاب کیا ہےتو اس کی وجہ سے ہر جنایت پر ایک دم ضرور لازم ہوگا، لہذا جنایات کی تفصیل تحریر کرکےاس کے مطابق حکم معلوم کیا جاسکتا ہے۔

حوالہ جات

*الدر المختار:(516/2،ط: دارالفكر)*
(ثم قصر) بأن يأخذ من كل شعرة قدر الانملة وجوبا، وتقصير الكل مندوب، والربع واجب، ويجب إجراء الموسى على الاقرع وذي قروح إن أمكن وإلا سقط، ومتى تعذر أحدهما لعارض تعين الآخر.

*بدائع الصنائع:(140/2،ط: دارالکتب العلمیۃ)*
"أن الحلق أو التقصير، واجب لما ذكرنا فلا يقع التحلل إلا بأحدهما و لم يوجد فكان إحرامه باقيا فإذا غسل رأسه بالخطمي فقد أزال التفث في حال قيام الإحرام فيلزمه الدم، والله أعلم".

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
44
فتوی نمبر 1439کی تصدیق کریں
-- متعلقه موضوعات --