خواتین کے مخصوص مسائل

مسلسل پورا مہینہ خون آنے کی صورت میں حیض کے ایام

فتوی نمبر :
2362
طہارت و نجاست / پاکی و ناپاکی کے احکام / خواتین کے مخصوص مسائل

مسلسل پورا مہینہ خون آنے کی صورت میں حیض کے ایام

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ مفتی صاحب!
ایک مسئلہ پوچھنا تھا کہ ایک عورت کو مسلسل خون آتا ہے، یعنی پورا مہینہ اس کو خون آتا ہے تو اس صورت میں اس کے حیض کے کون سے دن شمار ہوں گے اور طہر کے کون سے دن شمار ہوں گے ؟
اگر دو حیضوں کے درمیان 15 دن کا طہر لازمی ہے تو کیا ہر 15 دن کے بعد آنے والا خون حیض شمار ہوگا، اگرچہ پورا مہینہ خون آتا ہو؟
*تنقیح:*
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
سوال میں وضاحت نہیں کہ مذکورہ خاتون کی یہ حالت ابتداء سے چل رہی ہے یا بعد میں اس طرح ہوئی ہے؟
*جواب تنقیح*
یہ بعد کی حالت ہے، پہلے چھ دن عادت مقرر تھی ۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اگر کسی عورت کو پورا ایک مہینہ مسلسل خون آتا رہے تو اگر یہ اس عورت کا پہلا خون ہے تو دس دن اس کے حیض کے شمار کیے جائیں گے، بقیہ دن استحاضہ کے اور اگر پہلے سے اس کی عادت مقرر ہے تو اس کی سابقہ مقررہ عادت کا اعتبار کیا جائے گا، یعنی جتنے دن اس کی ماہواری پہلے سے معلوم ہیں، صرف اتنے ہی دن حیض شمار ہوں گے اور باقی دنوں کا خون استحاضہ کہلائے گا۔
حیض کے ایام میں نماز معاف ہوگی اور روزہ نہیں رکھا جائے گا، جبکہ عادت سے زائد دنوں میں وہ پاک شمار ہوگی، اس لیے نماز ادا کرنا لازم ہوگا اور اگر رمضان ہو تو روزہ بھی رکھنا ضروری ہوگا۔
پوچھی گئی صورت میں چونکہ عورت کے حیض کے ایام پہلے سے مقرر ہیں، اس لیے گزشتہ ترتیب کے مطابق چھ دن حیض شمار کیے جائیں گے اور بقیہ دن استحاضہ کے۔

حوالہ جات

*العناية شرح الهداية:(176/1،ط:دار الفكر)*
وقوله: (ولو زاد الدم على عشرة أيام) تعرض منه لما هو المتفق عليه، فإن الدم إذا زاد على عشرة أيام ولها عادة معروفة دون العشرة (ردت إلى أيام عادتها) باتفاق أصحابنا.
وأما إذا زاد على عادتها المعروفة دون العشرة فقد اختلف فيه المشايخ فذهب أئمة بلخي إلى أنها تؤمر بالاغتسال والصلاة؛ لأن حال الزيادة متردد بين الحيض والاستحاضة؛ لأنه إن انقطع الدم قبل العشرة كان حيضا، وإن جاوز العشرة كان استحاضة فلا تترك الصلاة مع التردد.

*كنز الدقائق:(150/1،ط:دار السراج)*
ولو زاد الدّم على أكثر الحيض والنّفاس فما زاد على عادتها استحاضةٌ
ولو مبتدأةً فحيضها عشرةٌ ونفاسها أربعون،وتتوضّأ المستحاضة ومن به سلس البول أو استطلاق بطنٍ أو انفلات ريحٍ أو رعافٌ دائمٍ أو جرحٌ لا يرقأ لوقت كلّ فرضٍ ويصلّون به فرضًا ونفلًا ويبطل بخروجه فقط.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
1
فتوی نمبر 2362کی تصدیق کریں