تراویح

ایک مسجد میں دو جگہ تراویح کرنے کا حکم

فتوی نمبر :
2174
عبادات / روزہ و رمضان / تراویح

ایک مسجد میں دو جگہ تراویح کرنے کا حکم

السلام علیکم !
کیا ایک مسجد میں دو جگہ ختم قران پاک کے لیے بیک وقت تراویح پڑھنا جائز ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ ایک ہی مسجد میں تراویح ایک ہی امام کی اقتدا میں ادا کی جائے، یہ طریقہ بہتر اور مناسب ہے، تاہم اگر کسی ضرورت یا مصلحت کے تحت دو یا زیادہ حفاظ الگ الگ جگہوں پر تراویح پڑھائیں اور ایک امام کی آواز دوسرے کے لیے خلل کا باعث نہ بنے، نیز اس عمل میں کسی قسم کی خودنمائی، تکبر یا نفسانی جذبہ شامل نہ ہو تو ایسی صورت میں اس کی اجازت ہے۔

حوالہ جات

*الصحیح البخاري:(45/3،رقم الحدیث:2010،ط: دار طوق النجاة)*
وعن ابن شهاب ، عن عروة بن الزبير ، عن عبد الرحمن بن عبد القاري أنه قال: «خرجت مع عمر بن الخطاب ﵁ ليلة في رمضان إلى المسجد، فإذا الناس أوزاع متفرقون، يصلي الرجل لنفسه، ويصلي الرجل فيصلي بصلاته الرهط، فقال عمر: إني أرى لو جمعت هؤلاء على قارئ واحد لكان أمثل، ثم عزم فجمعهم على أبي بن كعب، ثم خرجت معه ليلة أخرى والناس يصلون بصلاة قارئهم، قال عمر: نعم البدعة هذه، والتي ينامون عنها أفضل من التي يقومون، يريد آخر الليل، وكان الناس يقومون أوله».

*فتح القدیر:(348/4،ط: دار الفکر)*
إذ الضرورات تبيح المحظورات.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
22
فتوی نمبر 2174کی تصدیق کریں
-- متعلقه موضوعات --