تراویح

بیس رکعات تراویح

فتوی نمبر :
1151
عبادات / روزہ و رمضان / تراویح

بیس رکعات تراویح

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارے علاقے میں لوگوں میں تراویح کا شعور نہیں تھا لوگوںمیں تراویح کا شعور اور ذوق پیدا کرنے کے لیے سہ شبی اور چھ شبی کا رواج ڈالا گیا ، اب الحمد للہ شعور اور ذوق پیدا ہوگیا ہے لیکن اب لوگ سستی کی وجہ سے بیس رکعات تراویح سے جان چھڑانے کے لیے اپنے کاموں کا عذر کرتے ہوئے سہ شبی اور چھ شبی میں شرکت کرنے لگے ہیں ، اور کچھ علماء بھی عوام کو سہولت دینے کے لیے سہ شبی اورچھ شبی کو تقویت دے کر گویا تراویح کو ختم کرنے کی خاموش سازشیں کررہے ہیں ۔ اس تناظرمیں پوچھنا یہ ہے کہ کیا تراویح کی جگہ سہ شبی اور چھ شبی کی گنجائش ہے ؟ اور تراویح میں اصل سنت ختم قرآن کریم ہے یا تراویح پڑھنا ؟
براہ کرم !قرآن وحدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں ۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ بیس رکعات تراویح پڑھنا بذات خود ایک مستقل سنت ہے اور نماز تراویح میں ایک بار ختم قرآن کریم بھی سنت ہے۔ختم قرآن کے بعد تراویح ختم نہیں ہوجاتی ،لہذا عوام الناس کا تین روزہ یا چھ روزہ تراویح میں ختم قرآن کرنے کے بعد تراویح نہ پڑھنا ،تراویح کی سنت کو ترک کرنا ہے،جو شرعاً درست نہیں ۔

حوالہ جات

الدرالمختار : (2/ 47، ط: دارالفكر)
لكن في الاختيار: الأفضل في زماننا ‌قدر ‌ما ‌لا ‌يثقل ‌عليهم،
الشامية : (2/ 46، ط: دارالفكر)
ومنهم ‌من ‌استحب ‌الختم في ليلة السابع والعشرين رجاء أن ينالوا ليلة القدر .
الدرالمختار : (2/ 46، ط: دارالفكر)
(والختم) مرة سنة ومرتين فضيلة وثلاثا أفضل. (ولا يترك) الختم (لكسل القوم)

فتح القدير: (1/ 467، ط: دار الفكر )
والأصح أنها سنة لمواظبة الخلفاء الراشدين) تغليب إذ لم يرد كلهم بل عمر وعثمان وعليا، وهذا لأن ظاهر المنقول أن مبدأها من زمن عمر وهو ما روي عن عبد الرحمن بن القارئ، قال: خرجت مع عمر بن الخطاب رضي الله عنه ليلة في رمضان إلى المسجد فإذا الناس أوزاع متفرقون يصلي الرجل لنفسه ويصلي الرجل فيصلي بصلاته الرهط، فقال عمر رضي الله عنه: إني أرى لو جمعت هؤلاء على قارئ واحد لكان أمثل، ثم عزم فجمعهم إلى أبي بن كعب، ثم خرجت معه ليلة أخرى والناس يصلون بصلاة قارئهم، فقال عمر: نعمت البدعة هذه، والتي ينامون عنها أفضل يريد آخر الليل، وكان الناس يقومون أوله.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
31
فتوی نمبر 1151کی تصدیق کریں