نام رکھنے کا حکم

میرال اور زاویار نام رکھنے کا حکم

فتوی نمبر :
2150
معاشرت زندگی / بچوں کے اسلامی نام / نام رکھنے کا حکم

میرال اور زاویار نام رکھنے کا حکم

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
مسٔلہ یہ عرض کرنا ہے کہ میرال فاطمہ اور محمد زاویار. ض سے ہو یا زاء. سے نام رکھنا کیسا ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

میرال اردو یا عربی زبان کا لفظ نہیں، ترکی زبان کا لفظ ہے، جس کے معنی ”غزال“ یعنی ہرنی کے ہیں، چونکہ اس کے معنی اچھے ہیں، اس لیے شرعاً یہ نام رکھنا جائز ہے۔
’زاویار‘‘ ہمارے ہاں رائج زبانوں عربی، اردو اور فارسی کی کسی مستند لغت میں موجود نہیں، اگرچہ بعض لوگ اس کا معنیٰ ’’بہادر‘‘ بتاتے ہیں، لیکن اس کی کوئی مستند لغوی بنیاد ثابت نہیں، تاہم بہتر یہ ہے کہ بچوں اور بچیوں کے نام صحابہ اور ازواجِ مطہرات و صحابیات کے بابرکت ناموں میں سے کسی نام پر رکھے جائیں ۔

حوالہ جات

*سنن أبي داود:(7/ 303 ،رقم الحديث:4948،ط:دارالرسالة العالمية)*
عن أبي الدرداء، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "إنكم ‌تدعون ‌يوم ‌القيامة ‌باسمائكم وأسماء آبائكم، فاحسنوا أسماءكم".

*مسند البزار:(15/ ،ط: مكتبة العلوم والحكم)*
عن أبي هريرة؛ أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: إن من حق الولد على الوالد ‌أن ‌يحسن ‌اسمه ويحسن أدبه.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
14
فتوی نمبر 2150کی تصدیق کریں