کیا زکوٰۃ کے مال سے اپنے بھائی کے گھر میں بورنگ کروانا جائز ہے ؟
واضح رہے کہ زکوٰۃ کی ادائیگی کے لیے شرط ہے کہ کسی مستحقِ زکوٰۃ کو بغیر کسی عوض کے مالک بنایا جائے، لہٰذا پوچھی گئی صورت میں زکوٰۃ کی رقم سے براہِ راست بورنگ کرانا جائز نہیں، کیونکہ اس میں تملیک (کسی شخص کو مالک بنانا) نہیں پائی جاتی، البتہ اگر بورنگ ضروری ہو اور اس کے لیے کوئی اور رقم موجود نہ ہو تو اس کا طریقہ یہ ہے کہ زکوٰۃ کی رقم کا اس گھر کے کسی مستحقِ زکوٰۃ کو (بھائی ہو یا کوئی اور) بلاشرط مالک بنا دیا جائے، پھر اس رقم کو بورنگ کروانے پر لگایا جا سکتا ہے۔
*الهندية: (1/ 188،دارالفكر)*
ولا يجوز أن يبني بالزكاة المسجد، وكذا القناطر والسقايات، وإصلاح الطرقات، وكري الأنهار والحج والجهاد وكل ما لا تمليك فيه، ولا يجوز أن يكفن بها ميت، ولا يقضى بها دين الميت كذا في التبيين، ولا يشترى بها عبد يعتق، ولا يدفع إلى أصله، وإن علا، وفرعه، وإن سفل كذا في الكافي.
*البحر الرائق: (2/ 261،ط:دار الكتاب الاسلامي)*
والحيلة في الجواز في هذه الأربعة أن يتصدق بمقدار زكاته على فقير ثم يأمره بعد ذلك بالصرف إلى هذه الوجوه فيكون لصاحب المال ثواب الزكاة وللفقير ثواب هذه القرب كذا في المحيط.