اگر ایک شخص کی دکان ہے اور وہی شخص مزدوری (مثلاً رکشہ یا دیگر گاڑیوں کی مرمت) بھی کرتا ہے اور گھر کا خرچ تقریباً دو ہزار روپے روزانہ ہے تو کیا وہ گھر کا خرچ دکان کے منافع سے نکالے یا اپنی مزدوری (محنت کی کمائی) سے خرچ کرے؟
واضح رہے کہ ہر کسی کو اپنی ملکیت میں ہر قسم کا جائز تصرف کرنے کاحق حاصل ہے، لہذا پوچھی گئی صورت میں آپ کو اختیار ہے چاہے دکان کے مال میں سے گھر کا خرچہ نکالیں یا اپنی مزدوری سے۔
*مجلة الأحكام العدلية: (230،ط:نور محمد)*
المادة: (1192) كل يتصرف في ملكه كيفما شاء. لكن إذا تعلق حق الغير به فيمنع المالك من تصرفه على وجه الاستقلال.
*درر الحكام: (3/ 201،ط:دارالجلیل)*
كل يتصرف في ملكه المستقل كيفما شاء أي أنه يتصرف كما يريد باختياره أي لا يجوز منعه من التصرف من قبل أي أحد هذا إذا لم يكن في ذلك ضرر فاحش للغير.
*ایضاً:(ص: 210)*
(لا يمنع أحد من التصرف في ملكه ما لم يكن فيه ضرر فاحش للغير وفي هذه الحالة يفصل في الفصل الثاني) .لا يمنع أحد من التصرف في ملكه الخالص (التنوير في مسائل شتى القضاء) .والملك المقصود هنا هو أعم من ملك الرقبة وملك المنفعة فيدخل في ذلك العقارات الموقوفة للسكنى أو للاستغلال.